Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK250.00 SEK292.00

Pay in 4 interest-free payments of $62.50 Learn more

Lamhay Ki Moat - لمحے کی موت Dehli ki Arjumand Bano By Abdal Bela specializing in trading and counter

SKU: 13918804374
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 20 - Aug 25

Description

specializing in trading and counter trade

پاکستان کی برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کا مسئلہ ہے۔ آپ تہران آنے سے پہلے پاکستان کی وزارت تجارت کے سیکریٹری تھے اس لیے ایران کی وزارت بازرگانی میں آپ کے تعلقات سے کام چل سکتا ہے۔ شنید تو یہی ہے‘‘۔ مختار مسعود یہ سن کر حیران رہ گئے۔ بھنڈارا سے کہنے لگے: ’’آپ نے دو باتوں پر غور کیا ہے؟ پہلی تو یہ کہ تبریز کے بلوے میں سب سے زیادہ زور شراب خانے تباہ کرنے پر تھا۔ جب وہ سارے کے سارے جلا دیے گئے تو ہجوم نے اپنا باقی غصہ جدید طرز کے ہیئر کٹنگ سیلون جلاکر اتارا۔ جہاں حجام کی دکان تک محفوظ نہ ہو وہاں آپ کی شراب کے گودام کیسے سلامت رہیں گے؟ حالات اگر ایسے ہی رہے تو کسی دن تہران کی شمس برئیوری کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ آج کل رمضان کا مہینہ ہے‘‘۔ مختار مسعود فارسی داں ہیں انہوں نے مینو بھنڈارا کو قاآنی کے ایک قصیدے کے مناسب حال اشعار سنانے چاہے۔ مگر مینو اگرچہ پارسی ہونے کے ناطے ایرانی النسل تھا لیکن فارسی سے نابلد تھا، اس لیے مختار مسعود نے ان اشعار کا ترجمہ سنانے پر اکتفا کیا جو شبلی نعمانی نے کیا تھا۔ شاعر اپنے غلام کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ میری تسبیح اور جا نماز اٹھالا، مجلس میں عیش کے جو سامان ہیں وہ اٹھا لے جا۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی مولوی آجائے۔ اس مہینے میں شراب پینی ناجائز ہے۔ بھنڈارا نے جواب دیا ’’میں ان دونوں باتوں پر غور کرچکا ہوں۔ شراب بنانے، بیچنے، برآمد کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے بعد میری کوئی ذمے داری باقی نہیں رہ جاتی۔ درآمد کرنے والا جانے اور اس کا کام۔ رسد اور طلب کا اصول آپ جانتے ہوں گے۔ شراب کی جتنی دکانیں جلائی جائیں گی اور جتنے کارخانے اور گودام تباہ کیے جائیں گے اسی قدر شراب کی تجارت میں منافع بڑھتا جائے گا۔ تبریز میں بلوے کے بعد یہی ہوا۔ تہران اور مشہد میں بھی یہی ہوگا۔ رہی آپ کی دوسری بات تو اس کا جواب یہ ہے کہ شعر گھڑنے اور تجارت کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر رمضان میں کچھ لوگ روزہ کھولنے کے لیے بیئر پسند کرتے ہیں تو کیا انہیں روکنے کے لیے قاآنی اپنی قبر سے اٹھ کر آئے گا؟‘‘

He has also held a number of government positions and has served as Head of the Chief Minister’s Policy Reform Unit

is this the right thing to be doing is a question which has plagued me and continues to do

This book covers the course of post-colonial literature in Pakistan and the new course on Pakistani Literature in English that is being taught at universities in Pakistan

Lamhay Ki Moat - لمحے کی موت Dehli ki Arjumand Bano By Abdal Bela specializing in trading and counterPages: 224 Category: Children Books, Spy Novel

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products