Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD225.00 USD253.00

Pay in 4 interest-free payments of $56.25 Learn more

Surkh - سرخ bela kahani Pages: 176

SKU: 15423754122
4.5

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 15 - Aug 20

Description

Pages: 176

Pages: 143

راجہ انور آج کل پاکستان میں ہیں، میرے گھر کے قریب رہتے ہیں، میں ان سے کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔ یہ بہت ہی شان دار انسان ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں وِژن، تجربہ اور احساس تینوں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ میں نے پاکستان میں ان سے بہتر نثرنگار نہیں دیکھا، یہ لفظوں سے نہیں لکھتے، جذبات سے لکھتے ہیں اور قلم سے تحریر نہیں کرتے، شہنائی، بانسری اور ہارمونیم سے تحریر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں بے تحاشا روانی دے رکھی ہے۔ میرا دعویٰ ہے آپ بس ان کی کوئی تحریر شروع کرلیں، یہ آپ کو اس کے بعد دائیں بائیں نہیں دیکھنے دے گی۔ میں جب بھی ان کی تحریریں پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں اگر راجہ انور نہ ہوتے تو ماضی کی یہ بازگشتیں ہم تک کیسے پہنچتیں، ہم ان سے کیسے واقف ہوتے، لہٰذا تھینک یو راجہ صاحب

the specific skills that will enable you to overcome any forces that others perceive may hold them back—whether it be your education level

راجہ انور کی کتاب ’’قبر کی آغوش‘‘ کے لیے تقریب پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر مجاہد کامران نے کی تھی۔ اب اس کی دوسری کتاب ’’بَن باس‘‘ کی تقریب بھی پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ یہ تقریب کہیں اور بھی ہو سکتی تھی۔ یہ راجہ انور کی اپنی مادرِ علمی کے ساتھ وابستگی ہے کہ وہ یہاں پُرانے زمانے کو نئے زمانے کے ساتھ ہم رنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں ’’بَن باس‘‘ کے لیے بات کروں، یہ بات بھی سن لیں کہ یونیورسٹی میں اسے جیل جانا پڑا تھا۔ ایسے لوگوں کو جیل بھجوانے کا شوق بھی ظالم اور بزدل لوگوں کو بہت ہوتا ہے۔ ظالم تو بزدل ہوتا ہے۔ بزدل بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس مشہورِ زمانہ کتاب کا نام ہے ’’بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک‘‘۔ یہ عنوان پاکستان میں کتنی ہی کہانیوں کا عنوان بن گیا ہے۔ راجہ انور ایک بہادر آدمی ہے۔ وہ بہادر اہلِ قلم بھی ہے۔ اس نے اپنے قلم کو عَلَم بنا لیا ہے جو قلم کو تلوار بنا لیتے ہیں وہ اور طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ راجہ انور بالکل اور طرح کا آدمی ہے۔ افغانستان میں قیام کے حوالے سے اس کی کتابیں پڑھیں تو صاف پتا لگ جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں جیسا نہیں ہے۔ اپنی قبر کی آغوش میں پڑا پڑا بھی وہ اپنے قلب کی آغوش میں تھا جن کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے پھرتا رہا۔ وہی اس کی جان لینے کے درپے تھے۔ وہ ان کے ہاتھ لگ گیا مگر نجانے کیا ہوا کہ وہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔ جو آدمی اپنے مرنے کی خبر خود اپنے کانوں سے سنے، وہ اپنے اندر شہید ہوتا رہتا ہے۔ کئی بار اس ’’شہادت‘‘ کی سعادت پانے کے بعد بھی وہ زندہ رہے تو وہ کتنا زندہ شخص ہو گا۔ راجہ انور زندہ تر آدمی ہے اور اسے یہ مقام اس کی کتابوں نے دیا ہے کہ وہ سب کچھ لکھنے کا اہل ہوا ہے جو اس کے ساتھ ہوا ہے اور اس کے دل پر بیتا ہے۔ اس کی پیاری ماں اس کی موت کی خبر سن کر مر گئی۔ ماں تو ہوتی ہی پیار اور وفا ہے۔ وہ بھی وفا کے قافلے سے بچھڑا ہوا ایک سالار ہے۔ جو اپنی موت کی خبر سنتا ہے اور ایک لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والے ماحول میں زندہ رہتا ہے۔ جب وہ اپنی ماں کی قبر پر کھڑے ہو کے فاتحہ پڑھ رہا ہوگا تو فاتحانہ جانثاری کی یاد نے ایک نئی زندگی کا دروازہ اس کے لیے کھولا ہوگا۔ ’’قبر کی آغوش‘‘ اور ’’بن باس‘‘ اسی زندگی کا تحفہ ہیں۔ وہ راجہ سے مہاراجہ بن گیا ہے اور اسے پتا ہی نہیں چلا کہ اس کے پاس کوئی سلطنت نہیں ہے۔ کوئی جاگیر نہیں ہے۔ تو پھر اس کے پاس کیا ہے۔ مجھے پتا ہے مگر مجھے پتا نہیں۔ راز اور یاد بھی ایک سلطنت ہے۔ راز دو آدمیوں کے پاس نہیں ہوتا۔ راجہ انور نے ہمیں اپنا ہمراز بنا لیا ہے۔ راز کو فروغ دینے کا یہی طریقہ ہے۔ علم بھی راز ہے وہ جو کسی دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔

Surkh - سرخ bela kahani Pages: 176Pages: 96 ! : ( )

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products