Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD175.00 USD201.00

Pay in 4 interest-free payments of $43.75 Learn more

Azizan Raqasa (1857 Jang Azadi Ka Ahem Kirdar) - عزیزن رقاصہ Zikre Shahab It is a manual of

SKU: 16354769029
4.7

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 14 - Aug 19

Description

It is a manual of how to protect your most prized possession: the heart

’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے مصنف شمس الرحمٰن فاروقی اُردو دنیا کی ایسی عہدساز شخصیت ہیں جن کے کام، علمی توفیقات اور تخلیقی امتیازات کا ہر سطح پراعتراف کیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے انھیں ’’پدم شری ‘‘ جیسا بڑا ایوارڈ دیا تو حکومتِ پاکستان کی طرف سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ خلاق شاعر، مجتہد نقاد، دانشور اور شب خون جیسے رجحان ساز رسالے کے مدیر اور سب سے بڑھ کر ایسے ناول نگار جنہوں نے اپنے فن پاروں کو تہذیبی مرقع بنا کر اس صنف پر امکانات کے نئے آفاق کھول دیے۔ شمس الرحمٰن فاروقی 15 جنوری 1936ء کو پرتاب گڑھ، یوپی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علم وفضل کی قدیم روایت اپنے بزرگوں سے وراثت میں پائی۔ دادا حکیم مولوی محمد اصغر فاروقی تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے اور فراق گورکھپوری کے استاد تھے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے 1953ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔ اسی دوران ان کے تنقیدی مضامین اور تراجم شائع ہونا شروع ہوئے جنھوں نے ادبی دُنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ جون 1966ء میں ادبی رسالہ ’’شب خون‘‘ نکالا اور کئی نسلوں کے ادیبوں کی تربیت کی۔ انھوں نے نقد ، شاعری، فکشن، لغت نویسی، داستان، عروض، ترجمہ جیسے کئی فنون پر کتابیں لکھیں۔ تنقید کے میدان میں ان کا سب سے معرکہ آرا کام ’’شعر شور انگیز‘‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ چار جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں میر تقی میرؔ کی تفہیم جس انداز سے کی گئی ہے اس کی کوئی مثال اُردو ادب میں نہیں ملتی۔ اس کتاب پر انھیں 1996ء میں سرسوتی سمان ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ انھوں نے ارسطو کی ’’بوطیقا‘‘ کا بھی ازسرنو ترجمہ کیا اور اس کا بہت شاندار مقدمہ تحریر کیا۔ ان کا شعری کلیات ’’مجلس آفاق میں پروانہ ساں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔2001ء میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان افسانوں نے انھیں مائل کیا کہ وہ برصغیر کی مغلیہ تاریخ کے پس منظر میں کوئی ناول تحریر کریں۔ یہ ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس ناول نے شائع ہوتے ہی کلاسک کا درجہ حاصل کیا۔ اُردو کے تمام بڑے فکشن نگاروں، نقادوں اور قارئین نے اس کا والہانہ استقبال کیا جس کا اندازہ اس ناول کے متعدد ایڈیشنز اور تراجم کی اشاعت سے لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں اس ناول کا کلاسک ایڈیشن شائع کرنے کا اعزاز ’’بک کارنر‘‘ جہلم کو حاصل ہوا، اس جدید اشاعت کو شمس الرحمٰن فاروقی صاحب نے بے حد سراہا۔ ان کا داد بھرا پیغام موصول ہونا

؎کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لیے

بابا عرفان الحق ۱۴ اگست ۱۹۴۶ء کو نجیب آباد ضلع بجنور (یُو پی، بھارت) کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ پاکستان بننے پر والدین کے ہمراہ جہلم چلے آئے اور یہیں سکونت اختیار کر لی۔ جہلم سے ہی تعلیم حاصل کی اور مسلم کمرشل بینک سے وابستہ ہو گئے، جسے ۱۹۹۲ء میں خیرباد کہہ دیا اور ذاتی کاروبار سے منسلک ہو گئے۔ ۱۹۹۴ء سے مخلوقِ خدا کا روحانی اور جسمانی علاج بذریعہ ذکرِالٰہی، دُعا اور غذا شروع کیا جو تا حال جاری ہے۔ ۱۹۹۶ء سے آپ کے مرکز پہ ہر جمعرات کو محفلِ ذکر و درس منعقد کی جاتی ہے۔ ان محافل میں اور ملک کے مقتدر اداروں کے پلیٹ فارم پر باباجی نے جو گفتگو فرمائی، اُس کا بڑا حصہ اب تک گیارہ کُتب کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ آپ نے پاکستان ٹیلی ویژن پر ’’تزکیہ‘‘ کے نام سے سات سال تک مسلسل چلنے والے ایک دینی پروگرام میں مختلف موضوعات پر اظہارِخیال فرمایا۔ اس کے علاوہ اس نوعیت کے دیگر پروگرامز میں بھی شمولیت اختیار کرتے رہے۔ ان ہی پروگرامز میں سے منتخب کردہ گفتگو پر مبنی کتاب ’’تزکیہ 2‘‘ اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

3) محاضرات سیرت ﷺ - صفحات: 626

Azizan Raqasa (1857 Jang Azadi Ka Ahem Kirdar) - عزیزن رقاصہ Zikre Shahab It is a manual ofPages: 159 Category: History books

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products