Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
EUR200.00 EUR222.00

Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more

Mela Akhyan Da - میلہ اکھیاں دا Kishwar Nahed Books یہ شاہد صدیقی کا سفر

SKU: 17539195514
4.3

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 29 - Sep 3

Description

یہ شاہد صدیقی کا سفر نامہ ہے جو داستان گوئی کا ہنر و فن بھی جانتا ہے اور اپنے دور کے حقائق پر گہری نظر و مطالعہ بھی رکھتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا ہنرمند لکھاری ہو تو وہ سفرنامے کی تفصیل کو زندگی کے سفرنامے میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر ایک عدد زندگی تنہا فرد کی زندگی نہیں ہوتی، کئی اور زندگیاں بھی اس کے ساتھ سفر میں ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو اپنی زندگی کے ساتھ ہم سفر بنا کر ہم آہنگ کرنا ہی دراصل سفرنامہ لکھنے کا ہنر ہے۔ شاہد صدیقی نے ایک داستان گو کے انداز میں اپنا سفر یوں بیان کیا ہے کہ دیکھا بھالا منظر بھی ایک نئے رُخ سے نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔ Van Gogh کی اصل پینٹنگز کی گیلری گھومتے ہوئے میں ذرا بھی جذباتی نہیں ہوئی، مگر شاہد صدیقی نے جس طرح Van Gogh کا باب لکھا ہے، میں ان پینٹنگز کو تصوّر کی آنکھ سے دوبارہ دیکھتے ہوئے جذباتی ہوگئی اور کچھ دیر اسی باب پر ٹھہری رہی۔ یہ ہوتی ہے سفرنامے کی گرفت

"وہ ادھر، اس گلی کے آخری کونے سے ایک گاڑی نمودار ہوئی تھی۔ وہ گاڑی ایک مہربان چہرہ چلا رہا تھا۔ وہ میرے باپ کا دوست تھا۔ اس نے مجھے پلاسٹک کی ایک گیند تحفے میں دی۔ اس گیند کے اندر نامعلوم کیا چیز بھری تھی۔ اسے جتنا زور سے زمین پہ مارا جاتا وہ اتنی ہی تیزی سے واپس آتی اور اندر موجود لیکوئیڈ میں ستارے جھلملانے لگتے۔ وہ گیند میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی۔ وہ ٹھپا کھا کے اس تیزی سے نکلتی کہ اس کے پیچھے آنکھیں دوڑانا مشکل ہو جاتا۔ ایک دفعہ اسے کھینچ کے زمین پر جو مارا تو وہ واپس نہیں آئی۔ کسی چیز کے واپس نہ آنے سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ موت سے میرا دوسرا تعارف اس وقت ہوا جب میں گلابی قمیض اور نیلی پتلون پہن کر سکول جاتا تھا۔ سردیاں آ چکی تھیں۔ موٹی سی ایک جیکٹ پہنے ہوئے میں سکول گیا تھا۔ وہاں کلاس کے بیچ میں آ کر کسی نے بتایا تھا کہ اس کو چھٹی دے دی جائے، اس کے دادا کی وفات ہو چکی ہے۔ وفات؟ اچھلتے کودتے گھر واپس آیا تو صحن میں ایک چارپائی تھی اور اس پہ دادا سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ وہ ہلتے جلتے بھی نہیں تھے اور ان کی آنکھیں بھی بند تھیں اور وہ سو بھی نہیں رہے تھے۔ کہیں کچھ غلط تھا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ اسے وفات کہتے تھے۔ یہ موت تھی۔ تو میری گیند بھی شاید وفات پا گئی تھی۔ یہ میں نے اس وقت سوچا تھا لیکن تب ہر شخص غمزدہ تھا، میں کسی سے غیر ضروری سوالات پوچھنے میں بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ اس کے بعد میرے باپ کو ایک لمبی سی چادر، جو سفید رنگ کی تھی، سر پہ باندھی گئی۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ اب ان کی جگہ پر خاندان کے سردار ہیں۔ لیکن ان سے بڑی دادا کی ایک بیٹی تھیں۔ انہیں کیوں نہیں باندھی گئی۔ یہ بھی میں اس وقت نہیں پوچھ سکا۔ گیند کی وفات اور مرد کی سرداری اس دن میرے دماغ میں جا کے ٹھپے کھاتے اچھلتے رہے تھے۔ دو تین دن بعد جب دادا زمین میں دفن ہو چکے تھے اور ان کی آرام گاہ سیمنٹ سے پکی کی جا چکی تھی اور ایک پتھر کے ٹکڑے پر ان کا نام لکھوا کر ان کے سرہانے لگایا گیا تو مجھے موت سے مکمل تعارف حاصل ہوا۔ میری گیند مری نہیں تھی۔ اس سوال کا جواب مجھے مل گیا۔ پگڑی کیوں باندھی گئی اس کا جواب بعد میں وقت نے دیا۔"

افسانوی ادب کی جملہ اصناف یعنی داستان ، ڈرامہ ، ناول ، تمثیل اور افسانے کے فکری و فنی مباحث پر محیط

’’ساگان ایسا فلکیات دان ہے جس کی ایک آنکھ ستاروں پر اور دوسری تاریخ پر ہے، جبکہ اُس کے ذہن کی تیسری آنکھ انسانی معاملات پر لگی ہوئی ہے

This is the first definitive study of Pakistan’s history

Mela Akhyan Da - میلہ اکھیاں دا Kishwar Nahed Books یہ شاہد صدیقی کا سفرPages: 112 Category: Punjabi Poetry ( ) ( ) ( ) ( ) ( ) ( ) ( ) ( ) ( ) ( ) ( ) ( )

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products