Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD550.00 USD570.00

Pay in 4 interest-free payments of $137.50 Learn more

Tareek Raahon Kay Musafir - تاریک راہوں کے مسافر pakistan by maliha lodhi It tells the inside story

SKU: 18847744505
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 15 - Aug 20

Description

It tells the inside story of how Sharif stripped President Farooq Leghari of his powers under Article 58-2B of the constitution

Pages: 416

and progressively became the most powerful institution

’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے مصنف شمس الرحمٰن فاروقی اُردو دنیا کی ایسی عہدساز شخصیت ہیں جن کے کام، علمی توفیقات اور تخلیقی امتیازات کا ہر سطح پراعتراف کیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے انہیں ’’پدم شری ‘‘ جیسا بڑا ایوارڈ دیا تو حکومت پاکستان کی طرف سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ خلاق شاعر، مجتہد نقاد، دانشور اور شب خون جیسے رجحان ساز رسالے کے مدیر اور سب سے بڑھ کر ایسے ناول نگار جنہوں نے اپنے فن پارے کو تہذیبی مرقع بنا کر اس صنف پر امکانات کے نئے آفاق کھول دیے۔ شمس الرحمٰن فاروقی ۱۵جنوری ۱۹۳۶ء کو پرتاب گڑھ، یوپی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علم وفضل کی قدیم روایت اپنے بزرگوں سے وراثت میں پائی۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ۱۹۵۳ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ۔ ادبی رسالہ’’شب خون‘‘ نکالا اور کئی نسلوں کے ادیبوں کی تربیت کی۔ شمس الرحمٰن فاروقی ’’گنج سوختہ‘‘، ’’سبز اندرسبز‘‘، ’’چارسمت کا دریا‘‘، ’’آسماں محراب‘‘، ’’سوار اوردوسرے افسانے‘‘، ’’افسانے کی حمایت میں‘‘، ’’لفظ ومعنی‘‘، ’شعر شور انگیز‘‘، ’’عروض، آہنگ اور بیان‘‘، ’’اُردو غزل کے اہم موڑ‘‘، ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘، ’’قبض زماں‘‘ اور زیر نظر شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ کے مصنف ہیں۔

ملتان کے چار درویش ایسے درویش تھے کہ جن کی محفلوں نے مجھے محبّت کی نئی منزلوں سے آشنا کرایا۔ باقر شاہ کا اپنے بچوں کو کہنا کہ میرا دل چاہتا ہے رؤف کو بھی اپنے بچوں کی طرح جائیداد میں حصہ دوں یا چودھری نیاز جیسا عظیم اور درویش انسان جو رات کو عشا کی نماز سے گھر واپسی پر اپنے بیٹے کی گاڑی میں سے ٹیپ چوری کرتے چور کو اندر سے پیچ کَس لا دے کہ اس سے کھول لو بیٹا۔ چور ڈر جائے تو اسے تسلّی دے اور کہے، کوئی بات نہیں آپ کو اس کی ضرورت ہو گی۔ چودھری نیاز جیسی معصومانہ مسکراہٹ میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ یا اس سولہ سالہ بیٹی کی کہانی جب اچانک اسے پتا چلا کہ اس کا باپ تو مافیا کے لیے لوگوں کو قتل کرتا تھا۔ ہمارے ہاں ایسے بچے کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ یہ کہانی بھی آپ کو ہلا کر رکھ دے گی۔

Tareek Raahon Kay Musafir - تاریک راہوں کے مسافر pakistan by maliha lodhi It tells the inside storyPages: 304 Category: Novel, Translated Novel Author: Honore de Balzac Translated By: Rauf Klasra : (1799 1850) : (1799 1850) 1820 1824 "The Chouans" : 1993 APNS 92 2007 2011

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products