اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں عورت کی ہر حیثیت کو قابلِ احترام درجہ عطا کیا گیا ہے۔ عورت کی عظمتوں اور قربانیوں کی داستانیں صفحۂ قرطاس کی زینت بنیں بلکہ دِلوں میں ان کی محبّت و عقیدت کو راسخ کرتی ہیں۔ جگر گوشۂ رسول سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بارے میں بے شمار کتابیں قلم زد کی گئیں۔ ان کی زندگی کے حالات، سیرت، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بےپناہ محبّت، نیز سیّدنا علی پھر حسنین رضی اللہ عنہم اور زہد و تقویٰ اور علم وعمل کے حوالے سے ان کی ذاتِ مبارکہ اُجاگر ہوتی چلی گئی۔ بچپن سے لے کر پوری حیاتِ مبارکہ کا جائزہ لیا جائے تو رنج و آلام، حزن و ملال، مصائب میں انھوں نے جس عزم و استقلال سے وقت گزارا، یہ انہی کا خاصہ ہے، ہمت ہے۔ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے پاس نماز پڑھتے ہیں تو ان پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی جاتی ہے۔ حالتِ سجدہ میں بوجھ کی وجہ سے سر اُٹھا نہیں پاتے۔ سیّدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو اِطلاع ملتی ہے تو آکر اُن کو بوجھ سے آزاد کرا دیتی ہیں۔ شعبِ ابوطالب میں مصائب کا سامنا کرتی ہیں۔ اُنھوں نے اپنے اعزہ و اقارب اور عظیم والدین کے ساتھ ننھی سی عمر میں بھوک پیاس کی اذیت کے ساتھ تکالیف کا سامنا جس حوصلے کے ساتھ کیا، اسے پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ اب ’’سیّدہ فاطمۃ الزہرا‘‘ کی سیرت کو جناب حافظ ناصر محمود نے ترتیب دے کر کتاب کی شکل دی ہے۔ ان کی یہ علمی کاوش قابلِ تعریف ہے۔ انھوں نے انتہائی سادہ اور سلیس زبان میں کتاب عام فہم انداز میں تحریر کی ہے۔ دقیق اور مشکل الفاظ قلم ادا کرتے ہوئے انھوں نے جس حسنِ ترتیب کے ساتھ سادگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کو عوام و خاص کے سامنے خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ کتاب کے ناشرین بھی داد کے مستحق ہیں۔ حسن طباعت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ بلاشبہ، اس کتاب کو ہر اسلامی گھر کی زینت ہونا چاہیے۔ صغیرہ بانو شیریں
The book also includes the English and American reviews of Bolitho’s celebrated and influential biography
لیہ کی حسینہ بی بی ہو، ڈرائیور الطاف ہو، یا پھر سکول ماسٹر اسلم کی بیٹی کا المیہ۔ ان معصوم لوگوں کی کہانیاں لکھتے ہوئے مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ ادیب بھی کسی ٹریجڈی سے اتنا ہی متاثر ہوتا ہے جتنا اسے عام پڑھنے والا۔ میرا خیال تھا ادیب بے حِس ہوتے ہوں گے، سخت دِل، وہ خود نہیں روتے، وہ دوسروںکو رُلاتے ہیں۔ لیکن جب میں نے خود لکھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا اگر آپ خود حسّاس انسان نہیں ہیں تو پھر آپ نہ اچھے انسان ہیں اور نہ ہی اچھے لکھاری۔ اگر آپ اپنی کسی تحریر کو لکھتے وقت نہیں روئے تو آپ کا قاری کیسے روئے گا۔ جب تک آپ دوسروں کے دُکھوں پر وہی تکلیف یا درد محسوس نہیں کرتے جو آپ اپنے کسی قریبی کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں تو پھر آپ نہ اچھے انسان بن سکتے ہیں نہ ہی ادیب۔ ادیب اور لکھاری تو بنتے ہی وہ لوگ ہیں جو بہت حسّاس ہوتے ہیں۔ وہی اچھے انسان اور ادیب بن سکتے ہیں جو دوسروں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
often translated as "Introduction" or "Prolegomenon
fun-loving personality
Hidden Caliphate: Sufi Saints Beyond The Oxus And Indus Loh e Ayyam اسلامی تاریخ کا جائزہ لیاPages: 366 Category: English Books 2022, Winner of the Albert Hourani Book Award, the most prestigious award in Middle East Studies through the Middle East Studies Association 2023, Winner of the AIPS (American Institute of Pakistan Studies) Book Prize 2023, Shortlisted for British Association for South Asian Studies Book Prize 2022, Shortlisted for Bloomsbury Pakistan Book Prize In a pathbreaking book, Waleed Ziad tells the story of Central and South