"سیرت نگارى کے عالمی مقابلہ میں اول نمبر پر آنے والی نبي كريم صلى الله عليه وسلم کی سیرت طیبہ پر ایک جامع اور بہترین کتاب" الرحیق المختوم ایک خزانہ ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی پر قابل تعریف کتاب ہے۔ یہ کتاب جامعہ سلفیہ ، بنارس (انڈیا) کے ممتاز شیخ صفی الرحمن مبارک پوری نے لکھی اور عالمی سیرت مقابلے میں پہلا انعام جیتا۔ سیرت پر پہلی اسلامی کانفرنس 1976 میں مسلم ورلڈ لیگ کے زیر اہتمام پاکستان میں منعقد ہوئی۔ لیگ نے پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی پر کتاب لکھنے کے لیے دنیا بھر میں مقابلے کا اعلان کیا۔ SAR 150،000 بہترین پانچ کتابوں کے لیے عظیم انعام کے طور پر اعلان کیا گیا۔ شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری کے مخطوطہ ، جامعه السلفيه بنارس (انڈیا) نے سیل شدہ امرت کے لیے 50 ہزار ڈالر مالیت کا پہلا انعام اس کے بیانیے کے مستند اور صوتی مجموعے پر حاصل کیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ سیرت ان کے نسب ، ان کی زندگی کے پورے عرصے کے ساتھ ساتھ اسلام کے پھیلاؤ پر محیط ہے۔ متن کو قرآنی آیات کی مدد سے لکھا گیا ہے۔
’’اُلٹا درخت‘‘ کرشن چندر کا شاہکار Fantasy ناول ہے جس میں مختلف النوع موضوعات کی شمولیت نے بڑی پہلوداری پیدا کر دی ہے۔ ناول میں سائنسی معلومات اور انوکھی مہمّات کا تانا بانا نہایت خوبصورتی کے ساتھ بُنا گیا ہے۔ اس داستان میں دیو بھی ہیں، جادوگر بھی ہیں اور خضر نُما رحم دل بوڑھا بھی ہے۔ سلیمانی ٹوپی اور اُڑنے والی چھڑی بھی ہے اور ساتھ ہی دورِ جدید کے پیچیدہ سیاسی اور سماجی مسائل کو بھی طنزیہ اسلوب اور تمثیلی پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ ’’اُلٹا درخت‘‘ میں جادوگر الیکشن بھی لڑتے ہیں اور فلم ڈائریکٹر اس طلسماتی کارخانے میں اُلّو بنا دیئے جاتے ہیں۔ اس عجیب و غریب داستان میں بچّوں کی دلچسپی کے جملہ سامان موجود ہیں۔ ناول سر تا سر تخیلاتی ہے لیکن کرشن چندر کے بالغ سیاسی اور سماجی شعور نے اس Fantasy کو بلند پایہ طنزیہ تمثیل بنا دیا ہے اور ’’اُلٹا درخت‘‘ کا ہر تخیلی پیکر ایک عمیق رمزیت اور ہر واقعہ گہری معنویت کا حامل بن گیا ہے۔ کرشن چندر نے تحیّر، تجسّس اور سسپنس کی فضا اپنے اس ماحول میں از اوّل تا آخر ایسی کامیابی کے ساتھ برقرار رکھی ہے کہ کوئی بھی ذہین بچّہ اسے ختم کیے بغیر ہاتھ سے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو گا۔ بیج کے تین دانوں کے عوض گائے کو بیچ دینا، دو بیجوں کا کوّئوں کی نذر ہو جانا، ایک بیج سے اُلٹے درخت کا اُگنا، ایسے سنسنی خیز اور تحیرانگیز نکات ہیں کہ بچّے ان کا سبب اور انجام جاننے کے لیے بےقرار ہو جاتے ہیں۔ سانپوں کے شہر میں داخلے کی عجیب شرط کہ جب تک دروازہ نہ کھل جائے پلکیں نہ جھپکنے پائیں اور مارگزیدہ لوگوں کی لاشوں کا انتہائی پُراسرار طریقے سے غائب ہو جانا، یوسف کی موت کے بعد اُسے زندہ کرنے کی ترکیب، سونے کے آدمیوں پر سادہ پانی چھڑک کر انھیں دوبارہ انسان کی ہیئت میں لانا وغیرہ متعدد واقعات سے ناول مزین ہے اور کرشن چندر نے پوری داستان میں سسپنس کو برقرار رکھنے میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔
فیودر میخائلووچ دستوئیفسکی (1881ء۔ 1821ء) ماسکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والد شہر کے کسی خیراتی ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔ 1843ء میں دستوئیفسکی سینٹ پیٹرز برگ کے فوجی انجینئرنگ اسکول سے گریجویٹ ہوا اور انجینئرنگ وزارت میں ڈیزائن تیار کرنے کے کام پر ملازم ہو گیا۔ اپنی ملازمت سے وہ مطمئن نہ ہو سکا۔ 1844ء میں اس نے استعفا دے دیا اور اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔
unconditional love
Helen Keller’s triumph over her blindness and deafness has become one of the most inspiring stories of our time
Oxford Picture Dictionary English Urdu qitaat anwar masod "سیرت نگارى کے عالمی مقابلہPages: 88 Category: Children Books With 88 colourful pages, these dictionaries contain over 2000 contextualized, illustrated, and translated words. It is an essential aid for students and teachers of English, Urdu, and regional languages in Pakistan.