Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD675.00 USD708.00

Pay in 4 interest-free payments of $168.75 Learn more

Main Jinah Ka Waris Hon Kaghzi hai perhan پتھر کا زمانہ

SKU: 38433030008
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 30 - Sep 4

Description

پتھر کا زمانہ

سرمد کا بیانیہ اُن کے انفرادی تخلیقی تجربے کی دین ہے، اِس لیے اِس پر صرف اور صرف اُن کی اپنی مُہر ثبت ہے، وہ راشد، میرا جی، فیض یا مجید امجد جیسے شاعر نہیں ہیں بلکہ وہ ہوبہو سرمد صہبائی جیسے شاعر ہیں۔ نہ اُنھوں نے کسی سے اثر قبول کیا اور نہ اُن سے کسی نے اثر قبول کیا۔ اُن سے اثر قبول کرنا تقریباً ناممکن ہے کیوں کہ ایسا کرنے کے لیے سرمد ہونا پڑتا ہے۔ اُنھوں نے زبان کے زندہ اور متحرک تجربے سے اپنے لیے ایک نیا ڈکشن ایجاد کیا ہے جس میں زبان کے گزشتہ تجربے گھل مل گئے ہیں۔ڈاکٹر ضیا الحسن (Lums)کی تقریب سے ایک اقتباس

‘Very engaged and engaging

کرشن چندر نے اُردو افسانہ نِگاری میں جو رنگ پیدا کیا ہے وہ بالکل ایک نئی چیز ہے۔ اور شاید اس وقت کرشن سے زیادہ کامیاب افسانہ نِگار کوئی نہیں۔ اس کے افسانوں میں ہمیں رومان و حقیقت کا امتزاج مِلتا ہے جو ہندوستانیوں کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی فطرتاً تخیّل پرست اور رومانی ہیں۔ لیکن وقت اور ماحول کے تقاضوں نے ان کو حقیقت پرست اور واقعیت پسند بھی بنا دیا ہے۔ وہ اپنے انفرادی اور شخصی پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں اور ان میں سے زیادہ کسی اجتماعیت کو ساتھ لے کر نہیں چلتے۔ فنّی اعتبار سے وہ اُردو کا بہت بڑا افسانہ نِگار ہے۔ اس نے افسانہ اور سکیچ کے امتزاج سے اُردو افسانہ نِگاری میں بالکل ایک نئی راہ نکالی ہے جو خود زندگی سے زیادہ قریب ہے۔ اس کے بعض افسانے تو بالکل سکیچ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی حیرت خیز صنّاعی ان میں بھی افسانویت کی ایسی جھلکیاں دکھاتی ہے جن کا کہانیوں میں بھی ملنا مُشکل ہے۔ اس قسم کے افسانوں کے ہر اشارے اور ہر کنائے میں ایک کہانی ہوتی ہے۔ کرشن کا اسلوبِ بیان اور طرزِ ادا دِل کش ہے اور شاید ایسی پیاری زبان اور شعریت سے اتنا بھرپور اسلوبِ بیان اُردو کے بہت کم افسانہ نِگاروں کو نصیب ہوا ہے۔ وہ بذاتِ خود اُردو افسانہ نِگاری کا ایک اسکول ہے جس کی بُنیاد اس نے خود ہی ڈالی اور جس کو وہ خود ہی پروان چڑھا رہا ہے۔(ڈاکٹر عبادت بریلوی)کرشن چندر اُردو کے صفِ اوّل کے افسانہ نگاروں میں ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے وہ سب سے اچھے افسانہ نِگار ہیں اور اس قول کو آسانی سے رَد نہ کیا جا سکے گا۔ ان کے افسانوں میں تازگی اور شگفتگی، شادابی اور رعنائی ہے، زبان کی لطافت، تشبیہوں کی جدّت، اُسلوب کی ندرت، موضوع اور طرزِ بیان کی ہم آہنگی، موضوع اور مواد کی سماجی اہمیت، انسانیت کا درد اور اس کی ترقّی کی اُمید، یہ باتیں جس افسانہ نِگار میں اکٹھی ہو جائیں، وہی ساحری کر سکتا ہے۔ کرشن چندر اس لحاظ سے ساحر ہیں اگر وہ کبھی کبھی یہ احساس نہ دلائیں کہ حُسن صرف پہاڑوں اور وادیوں میں ہے۔ ان کے افسانوں سے یہ ترغیب نہ پیدا ہو کہ ’’فطرت‘‘ بذاتِ خود حسین اور مکمّل ہے تو شاید تخیُّلی حیثیت سے بھی ان کے جادو پر شک نہ کیا جا سکے۔ کرشن چندر کے افسانے پڑھے جانے کا اور ان کا فن مطالعہ اور غوروفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔(پروفیسر احتشام حسین)

This prose translation

Main Jinah Ka Waris Hon Kaghzi hai perhan پتھر کا زمانہPages: 360 Category: Novel

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products