Bahaao - بہاؤ nooren and then made a bid
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 17 - Aug 22
Pay in 4 interest-free payments of $131.25 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 17 - Aug 22
and then made a bid to become Amir ul Momineen standing above parliament
This new edition brings Siddiqa’s account fully up to date with a new preface and conclusion that emphasize the changing role of the media
علی اکبر ناطق کے بارے میں اب یہ حکم لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ جدید شعر میں ان کی اگلی منزل آگے کہاں تک جائے گی کہ ہر بار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے پہلے کلام میں تازگی اور میرا جی کی سی قوت اور داخلیت تھی۔ روایت اور تاریخ کا شعور بھی حیرت زدہ کرنے والا تھا۔ اب کے کلام میں لہجہ جدید نظم کے کلاسک شعرا سے بالکل الگ بھی ہے، نیا بھی ہے اور جوش درد سے بھی بھرا ہوا ہے اور صرف اور صرف اُن کا اپنا ہے، اس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ محبت کی باتیں بہت ہیں لیکن اُن میں زیاں اور ضرر کا احساس بھی زیادہ ہے۔ لہجہ پیغمبرانہ ہے۔ نظم کا بہائو اور آہنگ کی روانی ایسی ہے کہ حیرت پر حیرت ہوتی ہے، خاص کر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت ان کے کلام پر پنجابی کا اثر عام سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ پیوند بہت ہی اچھے لگتے ہیں۔ اس مجموعے کی نظمیں ہماری جدید شاعری کے لیے ایک مطلق نئی چنوتی لے کر آئی ہیں۔ اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے۔ شمس الرحمٰن فاروقی الٰہ آباد علی اکبر ناطق کی لگ بھگ ہر نظم سننے کے بعد جب بھی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اِس نے اپنے اظہار کی معراج حاصل کر لی ہے اور اِس سے آگے بڑھنا نا ممکن ہو گا ،وہ اگلی ہی نظم میں ایک نیا راستہ اختیارکر کے نئے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے ۔ اِس کی مثال کے لیے ’’یاقوت کے ورق‘‘ میں شامل سفیرِ لیلیٰ دیکھیے جو اپنی اُٹھان کے لحاظ سے زمانۂ قبل از اسلام کے سبع معلقات کی یاد دلاتی ہے اور اِس کے بعد زیرِ نظر مجموعے میں دیسی رنگ ڈھنگ کی نظمیں دیکھیں۔ یقین کرنا مشکل ہو گا کہ یہ ایک ہی شاعر کی تخلیقات ہیں۔ نثر کے برعکس اِ س کی شاعری میں مابعد الطبیعاتی پہلو بہت نمایاں ہے۔ ناطق کی نظم کا بیج مٹی میں ضرور ہوتا ہے لیکن نظم اُوپر اور اُوپر اُٹھتے اُٹھتے جاودانی آسمان کی وسعتوں سے ہم آہنگ ہو کر آفاقی اسطورہ بن جاتی ہے جسے آپ غیرفانی اساطیر کے پہلو میں دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے ایک اعزاز رہا ہے کہ میں پچھلے دس برس سے علی اکبر ناطق کی تقریباً ہر نئی نظم کا اوّلین سامع رہا ہوں، اِس کے باوجود کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اُس کی نئی کاوش سنتے وقت دل میں یہ سوال پیدا نہ ہو کہ اِس شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی تھاہ ہے بھی کہ نہیں ۔ زیف سید اسلام آباد میرؔ نے اکیسویں صدی میں جس ہرے بھرے اور شفاف قالب میں ٹھکانہ کیا ہے، اسے آپ ہم علی اکبر ناطق کے نام سے پہچانتے ہیں۔ ناطق کے شعر کا حال صبا ایسا لطیف اور آبشار جیسا نظیف ہو چلا ہے
Stoopo ka shehr Swat
اندھیری غلام گردشیں
Bahaao - بہاؤ nooren and then made a bidPages: 272 Category: Novels
US$ 65.00
US$ 10.00
US$ 11.99
US$ 10.00
US$ 10.00
US$ 24.00
US$ 24.00
US$ 16.00