Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD600.00 USD643.00

Pay in 4 interest-free payments of $150.00 Learn more

Haqeqat Pasand Pakistan Kesa Ho - حقیقت پسند پاکستان کیسا ہو apnay loog by amjad islam amjad it won't be how we

SKU: 41890855056
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 21 - Aug 26

Description

it won't be how we walked in the sun-but how we handled the storm-that will define us

and design

(قیصر عباس، بیسٹ سیلنگ مصنف / عالمی شہرت یافتہ کوچ)

اس کتاب میں غیر معمولی لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ہر نئے باب میں ایک نئی کتاب چُھپی ہے۔ نہرو اور جوش صاحب کی شام کی محفلوں کا احوال جب ہندوستان کا وزیراعظم جوش کے لیے شراب تک کا بندوبست خود کرتا تھا۔ سلطان محمد خوارزم کے حیران کن بلکہ احمقانہ فیصلے نے نہ صرف پوری سلطنت تباہ کرا دی بلکہ سلطان کی ماں سمیت پورے شاہی خاندان کی خوبصورت لڑکیاں منگول اُٹھا کر لے گئے۔ خوارزم شاہی خاندان کے نوجوان لڑ کے قتل کر دیے گئے۔ سلطان کی ماں اور خوبصورت پوتیوں اور نواسیوں کا منگولوں کے ہاتھوں درد ناک انجام آپ کو رُلا دے گا کہ کیسے راتوں رات تقدیر آپ کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ سلطنتوں کے عروج و زوال اور ان بادشاہوں کی کہانیاں جو اپنے عروج کے وقت خود کو خدا سمجھ بیٹھے تھے جبکہ زوال قلعے کی فصیلیں پھلانگ کر اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کتاب کو لکھتے وقت کئی جگہوں پر میرے اپنے آنسو بہہ نکلے۔ رونگٹے کھڑے ہوئے۔ بدن میں سنسنی پھیلی۔ چِین کے بےرحم صحرا سے اٹھنے والے وہ منگول جنھوں نے ثمرقند سے بغداد تک مسلمان سلطنتیں تباہ کر کے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا۔ ہندوستان، سینٹرل ایشیا، قدیم یورپ، بغداد اور انگریزوں کی سلطنت تک کے انسانی المیہ کی دردناک کہانیاں۔ دلی کے تین سو سالہ اقتدار میں 33 مسلمان بادشاہ جن میں سے صرف تین بادشاہ نیک نکلے۔ دکن کا مولوی اور جونا گڑھا کا قاضی وہ دو کردار ہیں جو اپنی ریاستیں چھوڑ کر پاکستان پہنچے تو ان پر کیا گزری۔ اس کتاب کے ان پچاس ابواب میں درجنوں کتابیں چُھپی ہیں جو آپ کو کہیں رلائیں گی تو کہیں ہنسائیں گی۔ وبا کے دنوں میں محبّت کی داستان کئی روز تک آپ کا دل گرماتی رہے گی۔ ایک مظلوم شاعر کی داستانِ عبرت جسے آخری مغل بادشاہ کا کردار ادا کرنا تھا۔ بادشاہت سے زیادہ ابراہیم ذوقؔ اور اسداللہ غالبؔ کی کمپنی کا شوق تھا۔ اس بدنصیب بادشاہ کا نیا قصّہ جسے دفن ہونے کے لیے کُوئے یار میں دو گز زمین بھی نہ ملی۔

خوشونت سنگھ، پنجاب کے گائوں ہڈالی (ضلع خوشاب، پاکستان) میں 1915ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستان کے معروف ترین اور وسیع حلقے میں پڑھے جانے والے مصنف اور اخبار نویس تھے۔ وہ ’یوجنا‘ کے بانی ایڈیٹر اور السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، دی ہندوستان ٹائمز اور نیشنل ہیرلڈ کے ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے 1947ء میں تقسیم ہند کا بہت قریب سے معائنہ کیا تھا اور اس واقعہ نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ اور مایہ ناز کتاب ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ لکھ ڈالی جسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے ہندی اور اُردو ناول، شاعری اور مختصر کہانیوں کے انگریزی ترجمے بھی کیے جن میں علامہ محمد اقبال کا ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘، مرزا محمد ہادی رسوا کا ’’امرائو جان ادا‘‘ اور راجندر سنگھ بیدی کا ’’اِک چادر میلی سی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ خوشونت سنگھ 1980ء سے 1986ء تک راجیہ سبھا (بھارتی پارلیمان کا ایوان بالا) کے رکن رہے۔ انھیں 1974ء میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا جسے انہوں نے 1984ء میں بھارتی فوج کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کے خلاف احتجاجاً واپس کر دیا۔ انھیں 2007ء میں بھارت کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم و بھوشن سے نوازا گیا۔ خوشونت سنگھ 2014ء میں دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کی چِتا کی راکھ کا کچھ حصہ بذریعہ ریل گاڑی پاکستان لے جاکران کے آبائی علاقہ میں سپردخاک کیا گیا۔

Haqeqat Pasand Pakistan Kesa Ho - حقیقت پسند پاکستان کیسا ہو apnay loog by amjad islam amjad it won't be how wePages: 281 Category: Political Books

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products