Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD300.00 USD336.00

Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more

Adlo Insaf - عدل و انصاف zehun ki ghumshuda taqat سوشلز م کے لیے کسی

SKU: 45256065681
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 27 - Sep 1

Description

سوشلز م کے لیے کسی خاص آدمی کو گھڑا نہیں جا سکتا ان ہی لوگوں کی دوبارہ تشکیل کرنا ہوگی…‘‘ کیا ڈاکٹر انور سجاد سمیت پاکستان کے انقلابی دانشور اس حقیقت کو پا چکے ہیں ؟ کیوںکہ چاندنی راتیں انقلاب کا موقع فراہم کرتی ہیں اور اس موقع پر لینن ہنستے ہوئے کہتا ہے:’’ دیکھو

علی جعفر زیدی کی  کتاب “ باہر جنگل اندر آگ “ ایک معرکہ آثار داستان  ہے جو پاکستان کی جہد للبقا کا احاطہ کرتی ہے ۔ اِس بھاری بھرکم تاریخی ، سیاسی اور سوانحی  دستاویز کے بارے میں میرے لیے کچھ کہنا بہت مُشکل ہے کیونکہ  اس کی تخلیقی لوح کے حاشیے پر بہت سے نامیوں نے اپنی گواہیوں کے امٹ نشان ثبت کیے ہیں۔  اور بہت ہی معتبر آراء کے  سورج  رقم  ہیں جن کے سامنے میرے اس لفظی چراغ کی لو ماند ہے کہ ان نامیوں میں جناب معراج محمد خان ، حضرت پروفیسر امین مُغل ، قبلہ حسین نقی ، صوفی دانشور شاعر اور ناول نگار ہمراز احسن ، قیصرِ صحافت جناب اثر چوہان اور دانشمندِ گرامی خالد محبوب لڈو کے علاوہ  حسن جعفر زیدی بھی شامل ہیں اور حسن جعفر چونکہ مصنف علی جعفر کے برادرِ خورد ہیں ، اِس لئے اُن کی تحریر کو میں برخوردارانہ برادر نوازی سمجھ کر آنکھوں سے لگاؤں گا کہ یہ دو بھائیوں کی باہمی محبّت کا اقرار نامہ ہے ۔

In the partition historiography

اور یہ باہر کے جنگل کے وقوعے ہیں۔ علی جعفر زیدی کی قلبی واردات نہیں ۔ اس طرح حلقہ ء اربابِ زوق کا ذکر ہے جو ڈاکٹر عزیزالحق کے انقلابی افکار کا پلیٹ فارم رہا ہے ۔ میں بھی کئی برس اس حلقے کا حصہ رہا ہوں ۔ جب  سالانہ انتخاب کے بعد حلقہ ادبی اور سیاسی ٹکڑوں میں بٹا تو اس میں جائنٹ سیکریٹری کے امیدواروں میں شاہد محمود ندیم اور مسعود مُنّور آمنے سامنے تھے ۔ انتخاب کی بیل منڈھے نہ چڑھی ۔ جب حلقہ ادبی اور سیاسی میں تقسیم ہؤا تو میں ادبی حلقے کا جائنٹ سیکریٹری بنا جب کہ سیکریٹری سہیل احمد خان تھے۔ ادبی حلقے میں منیر نیازی ، اعجاز حسین بٹالوی ،انتظار حسین ، سلیم شاہد ، احمد مشتاق ، زاہد  ڈار ، شہرت بخاری اور انجم رومانی جیسے ادیب تھے۔ جب کہ دوسرے حلقے میں سارے انقلابی اور مارکسی تھے ۔  حلقے کا ذکر کرتے ہوئے علی جعفر زیدی نے ایک ایسا نام بھی حلقے کے کھاتے میں ڈال دیا جس کا اُس وقت حلقے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا ۔ چونکہ علی جعفر خود حلقے سے وابستہ نہیں تھے ، اس لئے یہ کہانی مستعار لگتی ہے ۔

It is now sadly dilapidated

Adlo Insaf - عدل و انصاف zehun ki ghumshuda taqat سوشلز م کے لیے کسیPages: 280 Category: Short Stories

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products