Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD225.00 USD274.00

Pay in 4 interest-free payments of $56.25 Learn more

Adh Pchedy Sufny - ادھ پچدھے سفنے Pyar Ka Pehla Shehar (ڈاکٹر انوار احمد)

SKU: 52356166862
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 30 - Sep 4

Description

(ڈاکٹر انوار احمد)

ڈاکٹر محمد حمید اللہ، عالمِ اسلام کے بلند پایہ محقق، نامور عالم، مایہ ناز مترجم، ثقہ مفسر، مقتدر محدث، ممتاز قانون دان اور ماہرِ لسانیات، 1908ء کو حیدرآباد دکن میں پیدائش، 1923ء میں عثمانیہ یونیورسٹی (حیدرآباد، دکن) کے کلیہ شعبۂ دینیات میں داخلہ، وہاں سے ہی 1928ء میں بی اے، 1930ء میں ایم اے اور بعد ازاں اسی سال ایل ایل بی کے امتحان میں نمایاں کامیابی، 1932ء ’’اسلامی قانون بین الممالک‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ پیش کر کے عثمانیہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور پھر 1933ء میں جرمنی کی مشہور مادر علمی ’’بون یونیورسٹی‘‘ میں تحقیقی مقالہ پیش کر کے ڈاکٹریٹ (ڈی فِل) کی ڈگری کا حصول۔ بون یونیورسٹی میں عربی کے اعزازی ریڈر اور بعد ازاں اُردو کے پروفیسر کی تقرری۔ 1933ء میں سوربون یونیورسٹی پیرس میں داخلہ اور 1934ء میں وہاں سے ڈاکٹریٹ (ڈی لٹ) کی ڈگری کا حصول۔ 1935ء میں ڈاکٹر صاحب کو عثمانیہ یونیورسٹی نے منصبِ تدریس پیش کیا۔ ابتدائی طور پر یونیورسٹی کے لاء کالج میں ’’قانونِ بین الممالک‘‘ پڑھاتے رہے۔ بعدازاں ریڈر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ 1947ء میں ہندوستان تقسیم ہوا تو نظام حیدرآباد نے بھی اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔ دوسری جانب ہندوستان نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حیدرآباد دکن پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنا لیا، ایسے میں حیدرآباد کی آزادی کے تحفظ کی خاطر متین نواز جنگ کی قیادت میں ایک وفد پیرس بھیجا، ڈاکٹر محمد حمیداللہ بھی اس وفد میں شریک تھے۔ ابھی وفد پیرس میں تھا کہ ستمبر 1948ء میں بھارت نے ریاست حیدرآباد پر قبضہ کر لیا۔ ڈاکٹرصاحب نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان کو خیرباد کہہ دیا اور پیرس میں جا بسے۔ ایک عرصے تک وہ پیرس کے نیشنل سنٹر آف سائنٹیفک ریسرچ کے ممبر رہے، علاوہ ازیں پیرس، جرمنی اور ترکی کی یونیورسٹیز میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ان کی تبلیغی مساعی سے بلاشبہ لاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ ایک درجن سے زائد زبانوں پر نہ صرف عبور رکھتے تھے بلکہ ان تمام زبانوں میں ان کا تحقیقی سرمایہ موجود ہے۔ اُردو، فارسی، عربی، فرنچ، انگریزی، رُوسی، تُرکی، لاطینی، پُرتگیزی، جرمن، مَلے اور انڈونیشین زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ اس قدر زبان دانی کی مہارت نے انھیں اسلام کے آفاقی پیغام کو پھیلانے میں کافی مدد دی۔ مختلف زبانوں میں ایک ہزار سے زائد مقالے اور 200کے لگ بھگ تصانیف و رسائل، ان کی علمی، تحقیقی اور تبلیغی مساعی پر شاہد عادل ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کی تصانیف کے دُنیا کی بیش تر زبانوں میں ترجمے ہو کر شائع کیے جا چکے ہیں۔ علم و حکمت کا یہ آفتاب اگرچہ 2002ء میں اس جہانِ فانی کے مطلع سے غروب ہو گیا لیکن اپنے پیچھے علمی، روحانی اور تحقیقی کتابوں اور مقالوں کی صورت میں گراں قدر سرمایہ چھوڑ گیا ہے، جس سے تحقیق و انکشاف کی نئی شاہراہیں روشن ہوتی رہیں گی۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے تحقیقی اور علمی کارناموں میں سے ایک شاہکار ان کا فرانسیسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ہے۔ سعودی حکومت یہی ترجمہ چھاپ کر فرانس سے آنے والے حجاجِ کرام میں تقسیم کر رہی ہے۔ سیرت طیبہ کے موضوعات پر ان کے قلمِ خوشبو رقم نے صفحات پر جو گلکاریاں کی ہیں، اس نے ان کی کتابوں کو مشک بار اور عنبرفشاں بنا دیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں کی بازیافت ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی رسول اللہe کی ذاتِ والا صفات سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کے تحقیقی کام میں امتیازی حیثیت ان مخطوطوں کی بازیافت ہے، جو صدیوں سے پردئہ اخفا میں تھے، ڈاکٹرصاحب نے نہ صرف انھیں دُنیا کے مختلف کتب خانوں سے ڈھونڈ نکالا بلکہ ان کی تحقیق و تخریج کر کے متلاشیانِ علم و حکمت کے ہاتھوں میں پہنچا دیا۔ ’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ کی بازیافت و تدوین ایک عظیم علمی و تحقیقی کارنامہ ہے۔ یہ صحیفہ حضرت ابوہریرہt کے شاگردِ خاص ھمام بن منبہa (تابعی) نے مرتّب کیا۔ 138 احادیثِ مبارکہ پر مشتمل یہ صحیفہ ایک عرصے سے محققین کی دسترس سے باہر تھا۔ ڈاکٹرمحمدحمیداللہ نے اس کا ایک مخطوطہ برلن جبکہ دوسرا استنبول کے قدیم کتب خانوں سے حاصل کر کے تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع کیا۔

Author: Farrah Karamat Raja

A former governor of the State Bank of Pakistan

’’کرامازوف برادران‘‘(1880ء) دستوئیفسکی کا آخری ناول ہے، جسے دُنیا کے ہر نقاد نے عظیم ترین ناولوں میں شمار کیا ہے۔ ناول کا ہیرو الیوشا رُوسی قوم، رُوسی مذہب اور مذہبیت کی اعلیٰ ترین پیداوار ہے اور اسے اپنی سرزمین اور ماحول سے بہت گہرا اور سچا لگائو ہے۔ اس کی سیرت اور وہ اصول جن پر وہ تعمیر کی گئی ہے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دستوئیفسکی بغاوت، انکار اور شک کے تمام مراحل طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ گیا تھا۔ اس کا ناول وہ طوفان برپا کر دیتا ہے، جس سے پرانی دُنیا بگڑتی اور نئی دنیا بنتی ہے۔ 1958ء میں ہالی ووڈ نے اس ناول پر فلم بھی بنائی جس میں یوئل برینر نے میٹسا کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ ناول دستوئیفسکی کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا، لیکن اپنی اس موت سے پہلے بھی دستوئیفسکی ایک بار موت کا مزہ چکھ چکا تھا اور تجربہ اتنا انوکھا اور دُور رَس نتائج کا حامل تھا کہ اس کے اثرات دستوئیفسکی کے شاہکار ناولوں پر واضح طور سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دستوئیفسکی کو اُردو میں منتقل کرنا بطور خاص مشکل کام ہے لیکن کسی کو ہمت تو کرنی تھی۔ یہ سوچ کر مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم شاہد حمید نے اس عظیم ناول کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ انھوں نے اِس ضخیم ناول کے ترجمے پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

Adh Pchedy Sufny - ادھ پچدھے سفنے Pyar Ka Pehla Shehar (ڈاکٹر انوار احمد)Pages: 152 Category: Punjabi Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products