Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN350.00 PLN395.00

Pay in 4 interest-free payments of $87.50 Learn more

M F Husain Ki Kahani Apni Zubani - مقبول فدا حسین کی کہانی اپنی زبانی Aurat Memar e Insaniat By Maulana Wahiduddin Khan He was also a lead

SKU: 53390079884
4.0

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 16 - Aug 21

Description

He was also a lead writer on Family Pride

پاکستان کی برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کا مسئلہ ہے۔ آپ تہران آنے سے پہلے پاکستان کی وزارت تجارت کے سیکریٹری تھے اس لیے ایران کی وزارت بازرگانی میں آپ کے تعلقات سے کام چل سکتا ہے۔ شنید تو یہی ہے‘‘۔ مختار مسعود یہ سن کر حیران رہ گئے۔ بھنڈارا سے کہنے لگے: ’’آپ نے دو باتوں پر غور کیا ہے؟ پہلی تو یہ کہ تبریز کے بلوے میں سب سے زیادہ زور شراب خانے تباہ کرنے پر تھا۔ جب وہ سارے کے سارے جلا دیے گئے تو ہجوم نے اپنا باقی غصہ جدید طرز کے ہیئر کٹنگ سیلون جلاکر اتارا۔ جہاں حجام کی دکان تک محفوظ نہ ہو وہاں آپ کی شراب کے گودام کیسے سلامت رہیں گے؟ حالات اگر ایسے ہی رہے تو کسی دن تہران کی شمس برئیوری کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ آج کل رمضان کا مہینہ ہے‘‘۔ مختار مسعود فارسی داں ہیں انہوں نے مینو بھنڈارا کو قاآنی کے ایک قصیدے کے مناسب حال اشعار سنانے چاہے۔ مگر مینو اگرچہ پارسی ہونے کے ناطے ایرانی النسل تھا لیکن فارسی سے نابلد تھا، اس لیے مختار مسعود نے ان اشعار کا ترجمہ سنانے پر اکتفا کیا جو شبلی نعمانی نے کیا تھا۔ شاعر اپنے غلام کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ میری تسبیح اور جا نماز اٹھالا، مجلس میں عیش کے جو سامان ہیں وہ اٹھا لے جا۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی مولوی آجائے۔ اس مہینے میں شراب پینی ناجائز ہے۔ بھنڈارا نے جواب دیا ’’میں ان دونوں باتوں پر غور کرچکا ہوں۔ شراب بنانے، بیچنے، برآمد کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے بعد میری کوئی ذمے داری باقی نہیں رہ جاتی۔ درآمد کرنے والا جانے اور اس کا کام۔ رسد اور طلب کا اصول آپ جانتے ہوں گے۔ شراب کی جتنی دکانیں جلائی جائیں گی اور جتنے کارخانے اور گودام تباہ کیے جائیں گے اسی قدر شراب کی تجارت میں منافع بڑھتا جائے گا۔ تبریز میں بلوے کے بعد یہی ہوا۔ تہران اور مشہد میں بھی یہی ہوگا۔ رہی آپ کی دوسری بات تو اس کا جواب یہ ہے کہ شعر گھڑنے اور تجارت کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر رمضان میں کچھ لوگ روزہ کھولنے کے لیے بیئر پسند کرتے ہیں تو کیا انہیں روکنے کے لیے قاآنی اپنی قبر سے اٹھ کر آئے گا؟‘‘

آپ بلونت سنگھ کے ناول ’’کالے کوس‘‘ کا مطالعہ کریں گے تو انتظار حسین کی طرح کہہ اُٹھیں گے کہ پنجاب تو بس بلونت سنگھ کے ہاں ہی نظر آتا ہے؛ جیتا جاگتا پنجاب، سورمائوں اور الہڑ دوشیزائوں کا پنجاب۔ ایسا پنجاب جس میں محبت کی لازوال کہانیاں جنم لیتی ہیں__ اور وہ پنجاب بھی جس میں خون کی ندیاں بہنے لگی تھیں۔ ہندو سکھ ہوں یا مسلمان، ہجرت کرتے ہوئے بلوائیوں کا نشانہ ہوئے تو بلونت سنگھ کے قلم نے احتیاط اور انصاف سے ایک ایک وقوعہ لکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ صاف ستھری زبان اور ماجرائی اسلوب میں لکھا ہوا یہ ناول محبت کی لازوال کہانیوں اور فسادات کے زمانے میں انسان کے وحشی ہو جانے کے موضوع پر لکھے گئے فکشن کے باب کا اہم حصہ ہو گیا ہے۔ محض اہم نہیں، الگ اور نمایاں بھی۔ الگ اور نمایاں یوں کہ پنجاب کے دیہی منظر نامے سے جنم لینے والے فسادات کے زمانے کی رومان بھری کہانیوں کو ایک ناول میں جس دلکش اسلوب، رواں دواں سادہ مگر عمدہ بیانیے میں گوندھ لیا گیا ہے، ایسا قرینہ پنجاب کا البیلا ناول نگار بلونت سنگھ ہی برت سکتا تھا۔ قبل ازیں ’’بک کارنر،جہلم‘‘ نے اس باکمال فکشن نگار کا ناول ’’چک پیراں کا جسا‘‘ بہت اہتمام سے چھاپا تھا جس کی پذیرائی کے بعد وہ ’’کالے کوس‘‘ کی طرف متوجہ ہوئے اور اب یہ خوب صورت اور اہم ناول آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

" at a breathless pace she weaves her exotic cliffhanger from passion

۔۔۔ اور بہت کچھ

M F Husain Ki Kahani Apni Zubani - مقبول فدا حسین کی کہانی اپنی زبانی Aurat Memar e Insaniat By Maulana Wahiduddin Khan He was also a leadPages: 280 Category: Biography

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products