Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK725.00 SEK759.00

Pay in 4 interest-free payments of $181.25 Learn more

Lahore Aik Qos e Qazah books of fredrik natshy The book highlights the evolving

SKU: 61358757412
4.3

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 11 - Aug 16

Description

The book highlights the evolving trends in case law and proposes solutions to reconcile conflicting judicial authorities

and filled to the brim with theoretical and historical insights

Civil Services Academy

ڈھاکہ میرے لئے پرستان کی سی اہمیت رکھتا ہے ماں اور بابا اسی زمانے میں ڈھاکہ کے رہائشی تھے اور بابا ڈھاکہ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اور نمایاں نام رکھتے تھے اور اسیری سے رہائی کے بعد لوٹے تھے ۔ اس پرستان کے ایسے ایسے قصے ہم نے سن رکھے ہیں کہ ہم تمام اولادوں کے دل میں ایک ایک ڈھاکہ بستا ہے ۔۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی نقشے پر پاکستان کی پیدائش ١٩٤٧ء کے حوالے سے کئی خون رنگ کہانیاں ہمارے ادب کی زینت ہیں لیکن ان کہانیوں کے آخر میں قربانیوں میں شہزادے شہزادیوں کے ملن کی طرح ایک آزاد وطن کا انعام مل جانا تقویت کا باعث ہے ۔ یہ دوسری بڑی حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش کو کاٹ کر پاکستان کو اپاہج کر دینا بہت بڑا المیہ اور سازش تھی وہ زخم کبھی بھرا نہیں جا سکا بلکہ خون رستا ہی رہتا ہے اور سانحے کے انجام پہ نظر ڈالیں تو زخم چِھل کر دہکنے لگتے ہیں ایک ایسا گھاؤ جو کبھی بھرا نہیں جا سکا ۔۔۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے حسّاس ادیب نے اس تکلیف دہ موضوع کو زیادہ اہمیت کیوں نہیں دی یعنی اس موضوع پہ اتنا نہیں لکھا گیا جیسا لکھنے کا حق تھا ۔۔

پاکستان کی برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کا مسئلہ ہے۔ آپ تہران آنے سے پہلے پاکستان کی وزارت تجارت کے سیکریٹری تھے اس لیے ایران کی وزارت بازرگانی میں آپ کے تعلقات سے کام چل سکتا ہے۔ شنید تو یہی ہے‘‘۔ مختار مسعود یہ سن کر حیران رہ گئے۔ بھنڈارا سے کہنے لگے: ’’آپ نے دو باتوں پر غور کیا ہے؟ پہلی تو یہ کہ تبریز کے بلوے میں سب سے زیادہ زور شراب خانے تباہ کرنے پر تھا۔ جب وہ سارے کے سارے جلا دیے گئے تو ہجوم نے اپنا باقی غصہ جدید طرز کے ہیئر کٹنگ سیلون جلاکر اتارا۔ جہاں حجام کی دکان تک محفوظ نہ ہو وہاں آپ کی شراب کے گودام کیسے سلامت رہیں گے؟ حالات اگر ایسے ہی رہے تو کسی دن تہران کی شمس برئیوری کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ آج کل رمضان کا مہینہ ہے‘‘۔ مختار مسعود فارسی داں ہیں انہوں نے مینو بھنڈارا کو قاآنی کے ایک قصیدے کے مناسب حال اشعار سنانے چاہے۔ مگر مینو اگرچہ پارسی ہونے کے ناطے ایرانی النسل تھا لیکن فارسی سے نابلد تھا، اس لیے مختار مسعود نے ان اشعار کا ترجمہ سنانے پر اکتفا کیا جو شبلی نعمانی نے کیا تھا۔ شاعر اپنے غلام کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ میری تسبیح اور جا نماز اٹھالا، مجلس میں عیش کے جو سامان ہیں وہ اٹھا لے جا۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی مولوی آجائے۔ اس مہینے میں شراب پینی ناجائز ہے۔ بھنڈارا نے جواب دیا ’’میں ان دونوں باتوں پر غور کرچکا ہوں۔ شراب بنانے، بیچنے، برآمد کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے بعد میری کوئی ذمے داری باقی نہیں رہ جاتی۔ درآمد کرنے والا جانے اور اس کا کام۔ رسد اور طلب کا اصول آپ جانتے ہوں گے۔ شراب کی جتنی دکانیں جلائی جائیں گی اور جتنے کارخانے اور گودام تباہ کیے جائیں گے اسی قدر شراب کی تجارت میں منافع بڑھتا جائے گا۔ تبریز میں بلوے کے بعد یہی ہوا۔ تہران اور مشہد میں بھی یہی ہوگا۔ رہی آپ کی دوسری بات تو اس کا جواب یہ ہے کہ شعر گھڑنے اور تجارت کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر رمضان میں کچھ لوگ روزہ کھولنے کے لیے بیئر پسند کرتے ہیں تو کیا انہیں روکنے کے لیے قاآنی اپنی قبر سے اٹھ کر آئے گا؟‘‘

Lahore Aik Qos e Qazah books of fredrik natshy The book highlights the evolvingPages: 416 Category: History Book

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products