Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD675.00 USD695.00

Pay in 4 interest-free payments of $168.75 Learn more

Intelligent Investor (Urdu Edition) books on horor جب یہ ناول 1868ء اور

SKU: 64256611420
4.1

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 2 - Sep 7

Description

جب یہ ناول 1868ء اور 1869ء کے دوران رسالے میں قسط وار چھپا تو دستوئیفسکی دور پردیس میں بیٹھا اہلِ وطن کی توجہ اور قدردانی کا سخت آرزومند تھا، مگر یہاں بھی ناکامی رہی۔ ناول نے فوری مقبولیت نہیں پائی۔ پیٹرزبرگ اور ماسکو ، دو بڑے ادبی مرکزوں میں جو نظریاتی نزاع چل رہا تھا، اس میں ’’ایڈیٹ‘‘ نه پوری طرح اِس فریق کے آرکسٹرا میں کھپ سکتا تھا، نه اُس فریق کے اکسٹراز میں۔ یوں بھی مصنف کی نازک مزاجی، بلکه بددماغی نے اپنے ہمسروں سے بگاڑ مول لے رکھا تھا۔ پھر ناول میں کئی واقعات خود مصنف کی ذاتی زندگی اور واقعی تجربوں سے نکل کر آئے تھے۔ (مثلاً پھانسی کے تختے پر چڑھنے کے وقت کی ذہنی حالت یا مرگی کا دورہ جسے لفظوں کا جامہ پہنانے میں دستوئیفسکی نے کمال کر دیا ہے، پھر اس کے ان سیاسی، سماجی خیالات کی جھلک، جو اپنے وقت کے انقلابیوں کو اسی طرح ناگوار گزرے جس طرح مغربی تہذیب کے دل دادہ حلقوں کو۔) اور یه ناول اپنی بناوٹ میں ڈرامائی ایکشن اور معمول کی دلچسپ رومانی روش سے بھی ہٹا ہوا تھا۔ غرض کہ پٹ گیا

demography or population

پاکستان کی برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کا مسئلہ ہے۔ آپ تہران آنے سے پہلے پاکستان کی وزارت تجارت کے سیکریٹری تھے اس لیے ایران کی وزارت بازرگانی میں آپ کے تعلقات سے کام چل سکتا ہے۔ شنید تو یہی ہے‘‘۔ مختار مسعود یہ سن کر حیران رہ گئے۔ بھنڈارا سے کہنے لگے: ’’آپ نے دو باتوں پر غور کیا ہے؟ پہلی تو یہ کہ تبریز کے بلوے میں سب سے زیادہ زور شراب خانے تباہ کرنے پر تھا۔ جب وہ سارے کے سارے جلا دیے گئے تو ہجوم نے اپنا باقی غصہ جدید طرز کے ہیئر کٹنگ سیلون جلاکر اتارا۔ جہاں حجام کی دکان تک محفوظ نہ ہو وہاں آپ کی شراب کے گودام کیسے سلامت رہیں گے؟ حالات اگر ایسے ہی رہے تو کسی دن تہران کی شمس برئیوری کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ آج کل رمضان کا مہینہ ہے‘‘۔ مختار مسعود فارسی داں ہیں انہوں نے مینو بھنڈارا کو قاآنی کے ایک قصیدے کے مناسب حال اشعار سنانے چاہے۔ مگر مینو اگرچہ پارسی ہونے کے ناطے ایرانی النسل تھا لیکن فارسی سے نابلد تھا، اس لیے مختار مسعود نے ان اشعار کا ترجمہ سنانے پر اکتفا کیا جو شبلی نعمانی نے کیا تھا۔ شاعر اپنے غلام کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ میری تسبیح اور جا نماز اٹھالا، مجلس میں عیش کے جو سامان ہیں وہ اٹھا لے جا۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی مولوی آجائے۔ اس مہینے میں شراب پینی ناجائز ہے۔ بھنڈارا نے جواب دیا ’’میں ان دونوں باتوں پر غور کرچکا ہوں۔ شراب بنانے، بیچنے، برآمد کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے بعد میری کوئی ذمے داری باقی نہیں رہ جاتی۔ درآمد کرنے والا جانے اور اس کا کام۔ رسد اور طلب کا اصول آپ جانتے ہوں گے۔ شراب کی جتنی دکانیں جلائی جائیں گی اور جتنے کارخانے اور گودام تباہ کیے جائیں گے اسی قدر شراب کی تجارت میں منافع بڑھتا جائے گا۔ تبریز میں بلوے کے بعد یہی ہوا۔ تہران اور مشہد میں بھی یہی ہوگا۔ رہی آپ کی دوسری بات تو اس کا جواب یہ ہے کہ شعر گھڑنے اور تجارت کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر رمضان میں کچھ لوگ روزہ کھولنے کے لیے بیئر پسند کرتے ہیں تو کیا انہیں روکنے کے لیے قاآنی اپنی قبر سے اٹھ کر آئے گا؟‘‘

men of letters and historians continue to either ignore him or blacken his character

we could only guess why

Intelligent Investor (Urdu Edition) books on horor جب یہ ناول 1868ء اورPages: 512 Category: Self Motivation Urdu Translation of The Intelligent Investor Translated By Anas Chaudry

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products