Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK225.00 SEK259.00

Pay in 4 interest-free payments of $56.25 Learn more

Zard Mausam Kay Dukh - زرد موسم کے دکھ mein kisi ki beti nahi the present study explores the

SKU: 64341011947
4.4

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 24 - Aug 29

Description

the present study explores the concept of interpretation of statutes and strives to fortify that there are different forms of rules of interpretation of a constitution and a statute

اس کتاب میں غیر معمولی لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ہر نئے باب میں ایک نئی کتاب چُھپی ہے۔ نہرو اور جوش صاحب کی شام کی محفلوں کا احوال جب ہندوستان کا وزیراعظم جوش کے لیے شراب تک کا بندوبست خود کرتا تھا۔ سلطان محمد خوارزم کے حیران کن بلکہ احمقانہ فیصلے نے نہ صرف پوری سلطنت تباہ کرا دی بلکہ سلطان کی ماں سمیت پورے شاہی خاندان کی خوبصورت لڑکیاں منگول اُٹھا کر لے گئے۔ خوارزم شاہی خاندان کے نوجوان لڑ کے قتل کر دیے گئے۔ سلطان کی ماں اور خوبصورت پوتیوں اور نواسیوں کا منگولوں کے ہاتھوں درد ناک انجام آپ کو رُلا دے گا کہ کیسے راتوں رات تقدیر آپ کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ سلطنتوں کے عروج و زوال اور ان بادشاہوں کی کہانیاں جو اپنے عروج کے وقت خود کو خدا سمجھ بیٹھے تھے جبکہ زوال قلعے کی فصیلیں پھلانگ کر اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کتاب کو لکھتے وقت کئی جگہوں پر میرے اپنے آنسو بہہ نکلے۔ رونگٹے کھڑے ہوئے۔ بدن میں سنسنی پھیلی۔ چِین کے بےرحم صحرا سے اٹھنے والے وہ منگول جنھوں نے ثمرقند سے بغداد تک مسلمان سلطنتیں تباہ کر کے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا۔ ہندوستان، سینٹرل ایشیا، قدیم یورپ، بغداد اور انگریزوں کی سلطنت تک کے انسانی المیہ کی دردناک کہانیاں۔ دلی کے تین سو سالہ اقتدار میں 33 مسلمان بادشاہ جن میں سے صرف تین بادشاہ نیک نکلے۔ دکن کا مولوی اور جونا گڑھا کا قاضی وہ دو کردار ہیں جو اپنی ریاستیں چھوڑ کر پاکستان پہنچے تو ان پر کیا گزری۔ اس کتاب کے ان پچاس ابواب میں درجنوں کتابیں چُھپی ہیں جو آپ کو کہیں رلائیں گی تو کہیں ہنسائیں گی۔ وبا کے دنوں میں محبّت کی داستان کئی روز تک آپ کا دل گرماتی رہے گی۔ ایک مظلوم شاعر کی داستانِ عبرت جسے آخری مغل بادشاہ کا کردار ادا کرنا تھا۔ بادشاہت سے زیادہ ابراہیم ذوقؔ اور اسداللہ غالبؔ کی کمپنی کا شوق تھا۔ اس بدنصیب بادشاہ کا نیا قصّہ جسے دفن ہونے کے لیے کُوئے یار میں دو گز زمین بھی نہ ملی۔

They develop a codependent relationship as Lennie has the brawn and George has the brains

with hindsight

ﯾﮧ ﮐﯿﻮﺑﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﻘﻼﺑﯽ ﭘﺮﻋﺰﻡ ﺍﻭﺭ ﮈﺳﭙﻠﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺗﮭﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﺎﻧﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺗﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮈﺳﭙﻠﻦ ﺍﻭﺭﺟﺬﺑﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺼﻮﺑﻮﮞ ﭘﺮﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﯿﮉﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻣﺘﺮﺟﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﻟﯿﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﺗﮭﯽ، ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺪﯾﺪ ﻣﻮﺍﺻﻼﺗﯽ ﺁﻻﺕ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻼﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔

Zard Mausam Kay Dukh - زرد موسم کے دکھ mein kisi ki beti nahi the present study explores thePages: 198 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products