Butt Sortyan fredrik natshay the US-Russia-China
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 25 - Aug 30
Pay in 4 interest-free payments of $137.50 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 25 - Aug 30
the US-Russia-China
پورے گیارہ سال کی نہیں تھی جب ماں فوت ہوئی، ماں کی زندگی کا آخری دن چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کے ساتھ میری یاد میں محفوظ ہے۔ ’’ایک سوال‘‘ ناول میں ناول کا ہیرو جگدیپ مر رہی ماں کے بستر کے پاس جس طرح کھڑا ہے، اسی طرح میں اپنی مر رہی ماں کے بستر کے پاس کھڑی تھی اور میں نے جگدیپ کی مانند دل اور ذہن کی یکسوئی کے ساتھ خدا سے کہا تھا، ’’میری ماں کو نہ مارنا‘‘ اور مجھے بھی اس کی طرح یقین ہوگیا تھا کہ اب میری ماں نہیں مرے گی کیونکہ خدا بچوں کا کہا نہیں ٹالتا… لیکن ماں مر گئی تھی اور میرا بھی جگدیپ کی طرح خدا پر سے اعتقاد اٹھ گیا تھا۔ اور جس طرح جگدیپ اس ناول میں ماں کے ہاتھ کی پکی ہوئی اور ایک طاق پر رکھی ہوئی دو سُوکھی روٹیوں کو اپنے پاس سنبھال کر رکھ لیتا ہے، ان روٹیوں کو تھوڑا تھوڑا کرکے کئی دن کھاؤں گا، اسی طرح میں نے ان سُوکھی روٹیوں کو پیس کر ایک شیشی میں ڈال لیا تھا۔ ۱۵ مئی ۱۹۷۳ء کو جب دہلی یونیورسٹی نے آنریری ’ڈی لٹ‘ کی ڈگری عطا کی تو گھر آنے پر دیویندر نے اپنی جیب میں کچھ چھپا کر کہا، ’’دیدی
is a book which gives basic yet authentic and thorough information about Islam
I have to burn mid night oil repeatedly to skim through the script but this sojourn is worth for it
” –Guardian
Butt Sortyan fredrik natshay the US-Russia-ChinaPages: 239 Category: Humour (Mazah)