Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
EUR550.00 EUR600.00

Pay in 4 interest-free payments of $137.50 Learn more

Adab Aur Roshan Khiyali - ادب اور روشن خیالی Darya ki Tishnagi By Kishwar Naheed فیودر میخائلووچ دستوئیفسکی (1881ء۔ 1821ء)

SKU: 6752850253
4.6

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 12 - Aug 17

Description

فیودر میخائلووچ دستوئیفسکی (1881ء۔ 1821ء) ماسکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والد شہر کے کسی خیراتی ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔ 1843ء میں دستوئیفسکی سینٹ پیٹرز برگ کے فوجی انجینئرنگ اسکول سے گریجویٹ ہوا اور انجینئرنگ وزارت میں ڈیزائن تیار کرنے کے کام پر ملازم ہو گیا۔ اپنی ملازمت سے وہ مطمئن نہ ہو سکا۔ 1844ء میں اس نے استعفا دے دیا اور اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔

اردو کی معروف ترین لغت فرہنگِ آصفیہ کا ایک نیا تصحیح شدہ ایڈیشن شائع ہے - جسے اردو دان طبقوں نے لغت نویسی کے میدان میں سنگِ میل قرار دیا ہے۔ فرہنگِ آصفیہ صرف لغت ہی نہیں ہے، بلکہ اسے اردو تہذیب کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ بعد میں آنے والی تمام اردو لغات ایک طرح سے فرہنگِ آصفیہ ہی کی توسیع یا تلخیص ہیں۔ اب اس عظیم الشان لغت کا جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن شائع ہوا ہے جسے یاسر جواد اور رفاقت راضی نے بڑی دقتِ نظر سے مرتب کیا ہے۔ انھوں نے اندراجات اور تشریحات سمیت 20 لاکھ الفاظ پر مبنی اس ضخیم لغت کو شائع کروا کر وہ کام سرانجام دیا ہے جو بڑے بڑے اداروں سے نہ ہو سکا۔ فرہنگ آصفیہ اردو کی اُم اللغات ہے۔ اور ایک سو سال گزر جانے کے بعد بھی اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ لغت 1898ء سے 1918ء کے درمیان چار جلدوں میں شائع ہوئی۔

احمد شاہ ابدالی ایثار، بے لوثی اور قربانی کا پیکر تھا۔ وہ ایک طوفان کی طرح اٹھا، سیلِ رواں کی طرح آیا اور مرہٹہ امپائر کے خوابِ شیریں کو درہم برہم کر کے جہاں سے آیا تھا، وہیں واپس چلا گیا۔ اُس نے ہندوستان کی سرزمین پر ایک فاتح اور کشور کشا کی حیثیت سے قدم رکھا۔ بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوئیں، لیکن بالآخر انھیں سرنگوں ہونا پڑا۔ وہ جب اس دیس میں آیا تو اُس نے سب کی تابِ مقاومت چھین لی۔ سب کو اطاعت پر مجبور کر دیا۔ دلّی کا مغلِ اعظم اس کے دامن میں پناہ لے چکا تھا۔ اودھ کا شجاع الدولہ اس کی یکتائی کا سکہ مان چکا تھا۔ فرخ آباد کے احمد خاں بنگش، بریلی کے حافظ رحمت خاں، نجیب آباد کے نجیب الدولہ کو اس پر فخر تھا کہ وہ ابدالی کے وابستگانِ دامنِ دولت میں شمار ہوتے ہیں۔ مرہٹہ حکومت دم توڑ چکی تھی۔ ہندوستان کے دوسرے ہندو راجہ دست بستہ اور مؤدب اس کے حضور میں حاضر تھے اور اصرار کررہے تھے کہ ہندوستان کی حکومت قبول فرمائیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان کے تخت کا مالک اور وارث شاہ عالم بنگالہ کی سرزمین پر اپنی الجھنوں میں گھرا ہوا تھا۔ احمد شاہ ابدالی بڑی آسانی سے سارے ہندوستان کا فرماںروا بن سکتا تھا، لیکن اس نے یہ استدعا ٹھکرا دی۔ یہ موقع کھو دیا۔ یہ جنگ مسلمانانِ ہند کی سربلندی کے لیے وہ لڑا تھا۔ اس مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد وہ خاموشی سے اپنے ملک واپس چلا گیا۔اس ناول میں احمد شاہ ابدالی کے بارے میں جتنے واقعات لکھے ہیں، وہ تقریباً سب کے سب صحیح اور مستند ہیں۔ احمد شاہ ابدالی کی اگر میں تاریخ لکھتا تو بھی مجھے اتنی ہی محنت کرنی پڑتی اور اتنی ہی کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑتا جتنا اِس ناول کے سلسلہ میں کرنا پڑا۔ اس کے پڑھنے سے مسلمانوں کو معلوم ہو گاکہ وہ کیا تھے اور پڑھنے کے بعد محسوس کریں گے کہ وہ کیا ہیں؟ اگر یہ مقصد پورا ہو گیا تو میں سمجھوں گا میں نے اپنا کام کر لیا۔

and passionate faith

سرکنڈوں کے پیچھے لذت سنگ

Adab Aur Roshan Khiyali - ادب اور روشن خیالی Darya ki Tishnagi By Kishwar Naheed فیودر میخائلووچ دستوئیفسکی (1881ء۔ 1821ء)Pages: 228 Category: Urdu Adab

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products