Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
EUR275.00 EUR302.00

Pay in 4 interest-free payments of $68.75 Learn more

Adhy Adhory Khawab - آدھے ادھورے خواب nefsany مجھے خود بچپن سے کہانیاں

SKU: 70232534583
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 26 - Aug 31

Description

مجھے خود بچپن سے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ چھوٹا تھا تو اماں کے ساتھ بستر میں گھس جاتا کہ کہانی سنائیں۔ سارا دن کام کاج سے تھکی اماں کو نیند آرہی ہوتی لیکن میرا اصرار بڑھتا جاتا تو وہ نیم وا آنکھوں سے مجھے کہانی سنانا شروع کر دیتیں۔ کہانی سناتے سناتے اماں کی آنکھ لگ جاتی تو میں انہیں جگا کر کہتا اماں کہانی مکمل کریں۔ تب پھر مجھے سلانے کے لیے کہتیں، ’’رات کو قصے نہیں سناتے ورنہ مسافر جنگلوں میں راستہ بھول جاتے ہیں۔‘‘ میں اماں کی یہ بات سن کر ڈر جاتا، کہیں میری وجہ سے کوئی مسافر جنگل میں راستہ نہ بھول جائے اور وہ اپنے گھر نہ پہنچے، جہاں اس کے بچے اس کا اس طرح انتظار کر رہے ہوں گے جیسے میں بابا اور بھائیوں کا کرتا تھا

اصغرندیم سیّد

"وہ ادھر، اس گلی کے آخری کونے سے ایک گاڑی نمودار ہوئی تھی۔ وہ گاڑی ایک مہربان چہرہ چلا رہا تھا۔ وہ میرے باپ کا دوست تھا۔ اس نے مجھے پلاسٹک کی ایک گیند تحفے میں دی۔ اس گیند کے اندر نامعلوم کیا چیز بھری تھی۔ اسے جتنا زور سے زمین پہ مارا جاتا وہ اتنی ہی تیزی سے واپس آتی اور اندر موجود لیکوئیڈ میں ستارے جھلملانے لگتے۔ وہ گیند میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی۔ وہ ٹھپا کھا کے اس تیزی سے نکلتی کہ اس کے پیچھے آنکھیں دوڑانا مشکل ہو جاتا۔ ایک دفعہ اسے کھینچ کے زمین پر جو مارا تو وہ واپس نہیں آئی۔ کسی چیز کے واپس نہ آنے سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ موت سے میرا دوسرا تعارف اس وقت ہوا جب میں گلابی قمیض اور نیلی پتلون پہن کر سکول جاتا تھا۔ سردیاں آ چکی تھیں۔ موٹی سی ایک جیکٹ پہنے ہوئے میں سکول گیا تھا۔ وہاں کلاس کے بیچ میں آ کر کسی نے بتایا تھا کہ اس کو چھٹی دے دی جائے، اس کے دادا کی وفات ہو چکی ہے۔ وفات؟ اچھلتے کودتے گھر واپس آیا تو صحن میں ایک چارپائی تھی اور اس پہ دادا سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ وہ ہلتے جلتے بھی نہیں تھے اور ان کی آنکھیں بھی بند تھیں اور وہ سو بھی نہیں رہے تھے۔ کہیں کچھ غلط تھا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ اسے وفات کہتے تھے۔ یہ موت تھی۔ تو میری گیند بھی شاید وفات پا گئی تھی۔ یہ میں نے اس وقت سوچا تھا لیکن تب ہر شخص غمزدہ تھا، میں کسی سے غیر ضروری سوالات پوچھنے میں بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ اس کے بعد میرے باپ کو ایک لمبی سی چادر، جو سفید رنگ کی تھی، سر پہ باندھی گئی۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ اب ان کی جگہ پر خاندان کے سردار ہیں۔ لیکن ان سے بڑی دادا کی ایک بیٹی تھیں۔ انہیں کیوں نہیں باندھی گئی۔ یہ بھی میں اس وقت نہیں پوچھ سکا۔ گیند کی وفات اور مرد کی سرداری اس دن میرے دماغ میں جا کے ٹھپے کھاتے اچھلتے رہے تھے۔ دو تین دن بعد جب دادا زمین میں دفن ہو چکے تھے اور ان کی آرام گاہ سیمنٹ سے پکی کی جا چکی تھی اور ایک پتھر کے ٹکڑے پر ان کا نام لکھوا کر ان کے سرہانے لگایا گیا تو مجھے موت سے مکمل تعارف حاصل ہوا۔ میری گیند مری نہیں تھی۔ اس سوال کا جواب مجھے مل گیا۔ پگڑی کیوں باندھی گئی اس کا جواب بعد میں وقت نے دیا۔"

Translated by Makhmoor Jalandhri

foreign relations

Adhy Adhory Khawab - آدھے ادھورے خواب nefsany مجھے خود بچپن سے کہانیاںPages: 152 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products