Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD350.00 USD398.00

Pay in 4 interest-free payments of $87.50 Learn more

Alamaton Ka Zawaal - علامتوں کا زوال punjabi drama not just in day-to-day governance

SKU: 7045699627
4.6

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 24 - Aug 29

Description

not just in day-to-day governance

زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان غالباً ستمبر 1970ء کا پہلا ہفتہ تھا کہ جیل میں اسیر طلبہ نے صبح صبح شور مچایا، ’’راجہ بھی آ رہا ہے‘‘ انھوں نے اخبار سے اس کی گرفتاری کی خبر پڑھی تھی۔ شام کو اسے بھی ہمارے ساتھ ’’سی کلاس‘‘ کی تنگ ترین کوٹھری میں دھکیل دیا گیا۔ اب تکلّف کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ یہ شخص خاصا دل گُردے کا مالک ہے۔ غم، دُکھ اور یاسیت کے طوفان میں بھی مسکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ راجہ کے آنے سے صحنِ زنداں کی کلفتیں بہت ہلکی ہلکی نظر آنے لگیں۔ وہ لطیفے، ہنسی مذاق اور فقرہ بازی کا ماہر ہے۔ ہم پانچ آدمی اس مختصر سی جگہ پر سوتے۔ راجہ موم بتّی جلا کر رات رات کراہتی ہوئی زندگی کے مختلف پہلو قلم بند کرتا۔ اس کتاب کی بہت ساری یادداشتیں میرے سامنے لکھی گئیں اور بہت سے ایسے واقعات جہاں زبان ترجمانی نہیں کر پاتی، اس نے خونِ جگر میں اُنگلیاں ڈبو کر لکھے اور شاید یہ اسی کا حصّہ تھا۔ وہ اپنے حُلیے سے چی گویرا بھی لگتا ہے اور ہپی بھی، کبھی کبھی مولوی اور اکثر فلاسفروں کی طرح بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ طالبِ علم بھی ہے، ادیب بھی اورمقرّر بھی۔ دُشمنوں کے لیے وبالِ جان اور دوستوں کے لیے ’’جند جان‘‘ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ انتہائی حسّاس آدمی ہے۔ ’’راجہ بہت اچھا لکھتا ہے‘‘ میں یہ نہیں کہوں گا۔ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ اگر میں نے کچھ کہا تو آپ شاید ’’دوست نوازی‘‘ کا فتویٰ عائد کر دیں۔ بہرحال میں جانتا ہوں کہ آپ کا فیصلہ راجہ کے حق میں ہو گا۔ شبِ زنداں کی عکاسی ہر فرد کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کٹھن راہ میں کئی مقام ایسے بھی ہیں جہاں مروجہ زبان محسوسات کی ترجمانی نہیں کر پاتی۔ تاہم راجہ نے اپنی حسّاس طبیعت کے باعث اس ماحول کے دُکھوں کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ یہ کتاب زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان ہے۔ جیل پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا گیا لیکن مجھے یہ کہنے دیجیے کہ راجہ کی یہ درد بھری تصنیف اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ معراج محمد خان (نامور سوشلسٹ، دانشور اور فلسفی)

لیکن اُمید موجود ہے۔ اور واپسی کی ایک راہ ہمیشہ کھلی ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہیں د نیادی سفر پر گر پڑنے کی گنجائش کے ساتھ بھیجا جاتا ہے اسی طرح سے ہمیں اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی عطا ہوئی ہے۔ جیسے ہمارا لہو بہہ سکتا ہے اسی طرح سے ہم شفایاب بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمیں سامنا کرنے کی الوہی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ بچ جانے کے لیے حتی کہ طوفانوں میں نمو پانے کے لیے ۔ ہم میں سے ہر ایک کو اندھیرے سے پار دیکھنے کی خداداد صلاحیت ودیعت ہوئی ہے۔ جاڑے سے بچ نکلنے کی صلاحیت ۔ بار بار ٹوٹنے اور بار بار جڑنے کی صلاحیت کے حامل اور پھر ٹوٹے ہوے حصوں سے مزید خوبصورت ہو جانے والے۔ یہ کتاب انہی ٹوٹے ہوئے حصوں کو ۔ ہمارے خالی پن کو قدم بہ قدم دوبارہ جوڑنے کا رہنما کتا بچہ ہے۔

اس طرح جب مائیکل باپ کی جگہ ڈان بنتا ہے تو پھر نیویارک کی پانچ مافیا فیملیز ہی نہیں ہم سب اس سے ڈر جاتے ہیں۔

اب تک اس ناول کے کئی ایڈیشن چھپے ہیں اور پڑھے گئے ہیں لیکن جتنی محنت اور محبّت سے اس ایڈیشن کو ’’بک کارنر‘‘ کے بھائیوں کی جوڑی گگن شاہد اور امر شاہد چھاپ رہے ہیں اس نے دل خوش کر دیا ہے۔

Alamaton Ka Zawaal - علامتوں کا زوال punjabi drama not just in day-to-day governancePages: 243 Category: Urdu Adab, Critics, Tanqeed

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products