Deen e Fitrat - دین فطرت pri zaad Pages: 309
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 23 - Aug 28
Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 23 - Aug 28
Pages: 309
میں نے کوشش کی ہے کہ تمام موٹے موٹے واقعات سامنے آجائیں چھپانے اور دبانے کی کوشش محض ان واقعات کے سلسلہ میں کی گئی ہے جن سے ہمارے علاوہ کسی اور کو کسی قسم کانقصان پہنچ سکتا تھا۔ ہم نے تو خیر اوکھلی میں سرڈال ہی دیا ہے مگر گیہوں کے ساتھ گھُن کیوں پسیں۔ لہٰذا اس قسم کے واقعات اگر بیان بھی کیے ہیں تو فریق ثانی کا نام لیے بغیر ظاہر کیے ہیں اس لیے کہ روشنی میں ہم خود آنا چاہتے ہیں کسی اور کی لغزشوں پر روشنی ڈالنا مقصودنہیں۔ پھر بھی اگر کسی کو اس کتاب کی اشاعت کے بعد ہم سے کوئی شکایت پیدا ہو تو ہم نہایت شرافت کے ساتھ معذرت خواہ ہونے کی پوری کوشش کریں گے۔
زیر ِ نظر ناول "بابِ اسرار" ان کے ناول The Dervish Gateکا اردو ترجمہ ہے جو ترکی زبان میں 2008ءمیںBab i Esrar کے نام سے شائع ہوا۔ اس سنسنی خیزناول کا موضوع مولانا جلال الدین رومی اور شمس تبریز کا باہمی صوفی تعلق ہے۔ناول کی کہانی دو معموں کے گرد گھومتی ہے۔ایک شمس تبریز کے قتل کا اسرار، ایک ایسا اسرار جو سات صدیاں بعد بھی قائم ہے اور دوسرا موجودہ زمانے میں قونیہ کی ایک آتش زدگی اور اس میں ہونے والی ہلاکت کا معمہ۔ ان دونوں اسرار کو حقیقی اور تخیلاتی یعنی خواب کی دنیا میں کیرن کیمیا کا کردار حل کرتا دکھائی دیتاہے۔ احمت امید کی زبان وبیان اور تخیل نے اس داستان کو مزید پُرتجسس بنا دیا ہے۔ ناول کا بنیادی موضوع صوفی عقیدہ ہے کہ اس دنیا کی حقیقت محض ایک فریب ہے۔ ناول میں انہوں نے صوفی ازم کے عقائد کو نئے تناظر میں بیان کیا ہے اور انسان اور مذہب، عشق اور عقیدے، پر ان سوالوں کے جواب دئیے ہیں جو سات صدیاں بعد آج بھی زندہ ہیں۔ یہ ناول ترک سیکولر ثقافت میں صوفی ازم کے اظہار کی شان دار مثال ہے۔
سچ بولنا دُنیا میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ تمام دُنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھتے جائیے۔ مصیبت میں آ پ ان ہی کو مبتلا پائیں گے جو سچ بولنے والے گزرے ہیں۔ قانون ان ہی کے خون کا پیاسا ہوجاتا ہے۔ جھوٹ بولتے رہیے ،دھوکے دیتے رہیے، بے ایمانیاں کیے جائیے۔ مگر سب کومطمئن رکھیے کہ آپ نے یہ کچھ نہیں کیا ہے۔ سب مطمئن رہیں گے۔ زندگی بھر کی ایمانداری کے بعد ایک بے ایمانی کر لیجیے، مقدمہ چل جائے گا، سزا ہوجائے گی۔ چور چوری کر کے بھاگ جاتا ہے اور شاہ بنا پھرتا ہے۔ ساہوکار کے حساب میں ذرا سی غلطی ہوجاتی ہے، خیانت میں پکڑا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پیش کر دیں۔ اب یہ کہنے والا کوئی بھی نہ ہوگا کہ خدا نے اس کو سچ بولنے کی توفیق عطا کی۔ کوئی کہے گا،’’سن لیا آپ نے یہ جو آپ کے شوکت تھانوی ہیں، اعلیٰ درجہ کے جواری واقع ہوئے ہیں۔‘‘کسی طرف سے آواز بلند ہوگی،’’بدمعاشیوں کے سوا اورکچھ کیا ہی نہیں۔‘‘کوئی صاحب فرمائیں گے،’’بے حیائی اور ڈھٹائی ملاحظہ ہوکہ کس صفائی سے اپنا اعمال نامہ پیش کیا ہے۔‘‘ اور بیوی اپنے پھولے ہوئے رُخ روشن پر اپنے آنسوئوں کا انتظار کرتے ہوئے ایک ٹھڈی سانس لے کر کہیں گی، ’’واری قسمت شکر ہے خداوند تیرا۔‘‘ بیوی بہت زیادہ تو خیر خوش نہیں ہیں۔ اس لیے جو کچھ ان کے علم میں ہے، اسی کو وہ بدنصیبی کے لیے کافی سمجھتی ہیں۔ مگر ان کا شوہر یہ سچ نہ بولتا تو وہ اپنے کو اتنا ہی بدنصیب سمجھتی رہتیں اور اب تو ان بےچاری کی بدبختیوں کاکوئی ٹھکانہ ہی نہ رہے گا۔ اس لیے کہ ان کے شوہر میں اور تو سب عیب تھے ہی، یہ کمبخت تو چور کے علاوہ سینہ زور بھی نکلا۔ بے شرمی کی حد کردی، سب کچھ لکھ کر چھاپ دیا کہ بیوی جلتی ہو تو جی کھول کر جلو۔ تم ہمارا کر ہی کیا سکتی ہو۔ ہم نے جو کچھ کیا خُوب ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ یہ کیا، یہ کیا اور یہ کیا۔
Category: English
Deen e Fitrat - دین فطرت pri zaad Pages: 309Pages: 246 Category: Islam