Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN450.00 PLN476.00

Pay in 4 interest-free payments of $112.50 Learn more

Kalila wa-Dimna books on seerat Muhammad PBUH اُردو ناول میں پنجاب اپنی

SKU: 76369629931
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 2 - Sep 7

Description

اُردو ناول میں پنجاب اپنی تاریخ و تہذیب کے ساتھ مختلف سماجی طبقوں، علاقائی روایات اور زرعی بُو باس و متنوع پہلوؤں کے ساتھ، تفصیل میں دریافت ہو چکا ہے لیکن کسی ناول نگار نے بھولی بسری قومیتوں، نظر انداز کیے گئے قبیلوں اور زندگی کی لکیر کے نیچے دبے ہوئے انسانوں، نسلوں، ذاتوں اور اُن کی بولیوں کے ساتھ اُن کے رسوم و رواج کو جڑوں کے ساتھ کھوجنے کی وہ کوشش نہیں کی جو ناول نگار طاہرہ اقبال نے کی ہے۔ مشترکہ ہندوستان کے پنجاب کا ماضی اور تاریخ اپنی تہ دار پرتوں اور انسانی تجربوں کے لامحدود زاویوں کے ساتھ صرف طاہرہ اقبال کے ناولوں ہی میں ظاہر ہو سکا ہے۔ ’’نیلی بار‘‘ اور ’’گراں‘‘ کے بعد اب وہ ہڑپا تہذیب میں شامل انسانی زندگی کے تحرک کو زبان، سماج، روایات اور مزاج کے ساتھ دریافت کرنے کا تجربہ کر رہی ہیں۔ ’’ہڑپا‘‘ میں محض ایک علاقے کی دنیا کے کردار اپنی جڑوں کے ساتھ دریافت نہیں ہوئے۔ یوں سمجھیں کہ ’’ہڑپا‘‘ پنجاب کا بحرِ بیکراں ہے جہاں تاریخی جدلیات انسانی رشتوں کے خمیر میں جس طرح جاگزیں ہے اُس کی خبر طاہرہ اقبال لے کر آئی ہیں۔ طاہرہ اقبال واحد ناول نگار ہے جو تحقیقی مطالعے کے زعم میں ناول نہیں لکھتیں۔ بہت سے ناول نگار گلبرگ میں بیٹھ کر بھولی بسری اور متروک تہذیبوں پر کی گئی تحقیق کے زور پر ناول لکھ کر نامور ہو جاتے ہیں، جبکہ طاہرہ اقبال کے آبا و اجداد اور اُس پر وہ تہذیب گزری ہے، اُس نے اُس میں سانس لے رکھا ہے۔ اُس میں زندہ ہے اور یہی اُس کی تخلیقی سچائی ہے۔ ’’ہڑپا‘‘ کی دنیا محدود نہیں ہے، وہ ہزاروں سال کی برصغیر کی تاریخی جدلیات میں ایسے شامل ہو جاتی ہے جیسے زیرِ زمین دریا آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ طاہرہ اقبال نے پنجاب کی رہتل اور اُس میں آباد انسانوں میں عورت کو جس رنگ روپ میں دیکھا ہے، ایسے دہلی، لکھنؤ اور حیدرآباد کی عورت کو کوئی ناول نگار نہیں دیکھ سکا۔ اگرچہ قرۃ العین حیدر، واجدہ تبسّم اور عصمت چغتائی جزوی طور پر اپنے اپنے علاقوں سے انصاف کر سکی ہیں مگر طاہرہ اقبال کا دائرہ بہت پھیلا ہوا ہے۔ اصغر ندیم سید

Pages: 150

geo-political

یہ راجہ انور کے ساتھ میرا پہلا تعارف تھا، راجہ انور ایک طلسماتی شخصیت کا نام تھا۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں فلاسفی ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا، ذہین اور پڑھاکو تھے، خوب صورت بھی تھے اور بلاکے مقرر بھی تھے چنانچہ پوری یونیورسٹی میں مشہور ہو گئے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کنول نام کی ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوئے، یہ دونوں ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے، محبت ختم ہو گئی لیکن خط بچ گئے۔ راجہ انور نے یہ خط "جھوٹے روپ کے درشن" کے نام سے کتابی شکل میں شائع کر دیے اور اس کتاب نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ ہمارے زمانے میں یہ کتاب طالبِ علموں کے غیرنصابی نصاب کا حصہ ہوتی تھی، یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی نوجوان پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے اور وہ یہ کتاب نہ پڑھے۔

جب جسم جھلستی ہوئی ریت بن کر ہوا میں بکھرنے کو ہوا تو

Kalila wa-Dimna books on seerat Muhammad PBUH اُردو ناول میں پنجاب اپنیPages: 254 Category: Short stories

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products