Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK875.00 SEK919.00

Pay in 4 interest-free payments of $218.75 Learn more

Rehman Raheem Sada Saien - رحمن رحیم سدا سائیں shahr e Khubani Kay Musafar\ ذ کی نقوی کی حقیقت

SKU: 78874150285
4.3

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 22 - Aug 27

Description

ذ کی نقوی کی حقیقت نگاری ، سادہ و پر کار ہونے کے باوجود گہرائی اور پیچیدگی کی حامل ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے ایک طرف دل و دماغ بے ساختہ داد دیتے ہیں تو دوسری طرف قاری کی روح دیر تک شاد رہتی ہے۔ امید ہے، اس کتاب کے پڑھنے والے تادیر اس کے اثر سے نکل نہیں سکیں گے۔

’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے مصنف شمس الرحمٰن فاروقی اُردو دنیا کی ایسی عہدساز شخصیت ہیں جن کے کام، علمی توفیقات اور تخلیقی امتیازات کا ہر سطح پراعتراف کیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے انھیں ’’پدم شری ‘‘ جیسا بڑا ایوارڈ دیا تو حکومتِ پاکستان کی طرف سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ خلاق شاعر، مجتہد نقاد، دانشور اور شب خون جیسے رجحان ساز رسالے کے مدیر اور سب سے بڑھ کر ایسے ناول نگار جنہوں نے اپنے فن پاروں کو تہذیبی مرقع بنا کر اس صنف پر امکانات کے نئے آفاق کھول دیے۔ شمس الرحمٰن فاروقی 15 جنوری 1936ء کو پرتاب گڑھ، یوپی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علم وفضل کی قدیم روایت اپنے بزرگوں سے وراثت میں پائی۔ دادا حکیم مولوی محمد اصغر فاروقی تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے اور فراق گورکھپوری کے استاد تھے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے 1953ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔ اسی دوران ان کے تنقیدی مضامین اور تراجم شائع ہونا شروع ہوئے جنھوں نے ادبی دُنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ جون 1966ء میں ادبی رسالہ ’’شب خون‘‘ نکالا اور کئی نسلوں کے ادیبوں کی تربیت کی۔ انھوں نے نقد ، شاعری، فکشن، لغت نویسی، داستان، عروض، ترجمہ جیسے کئی فنون پر کتابیں لکھیں۔ تنقید کے میدان میں ان کا سب سے معرکہ آرا کام ’’شعر شور انگیز‘‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ چار جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں میر تقی میرؔ کی تفہیم جس انداز سے کی گئی ہے اس کی کوئی مثال اُردو ادب میں نہیں ملتی۔ اس کتاب پر انھیں 1996ء میں سرسوتی سمان ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ انھوں نے ارسطو کی ’’بوطیقا‘‘ کا بھی ازسرنو ترجمہ کیا اور اس کا بہت شاندار مقدمہ تحریر کیا۔ ان کا شعری کلیات ’’مجلس آفاق میں پروانہ ساں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔2001ء میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان افسانوں نے انھیں مائل کیا کہ وہ برصغیر کی مغلیہ تاریخ کے پس منظر میں کوئی ناول تحریر کریں۔ یہ ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس ناول نے شائع ہوتے ہی کلاسک کا درجہ حاصل کیا۔ اُردو کے تمام بڑے فکشن نگاروں، نقادوں اور قارئین نے اس کا والہانہ استقبال کیا جس کا اندازہ اس ناول کے متعدد ایڈیشنز اور تراجم کی اشاعت سے لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں اس ناول کا کلاسک ایڈیشن شائع کرنے کا اعزاز ’’بک کارنر‘‘ جہلم کو حاصل ہوا، اس جدید اشاعت کو شمس الرحمٰن فاروقی صاحب نے بے حد سراہا۔ ان کا داد بھرا پیغام موصول ہونا

tell him off or forsake him

New Dimensions in Contemporary Pakistani and Kashmiri Writings

“DISTILLS TUMULTUOUS EVENTS

Rehman Raheem Sada Saien - رحمن رحیم سدا سائیں shahr e Khubani Kay Musafar\ ذ کی نقوی کی حقیقتPages: 768 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products