and at the Department of Middle Eastern
ناول نگار اور فرینک ہربرٹ کے بیٹے اور ان کے سوانح نویس برائن ہربرٹ لکھتے ہیں:
and public finances—each is covered in a separate chapter
has never been fully understood
ایسے میں وقت گزارنے اورطبعیتوں کو بہلانےکے لیے کسی نے کتاب سے رشتہ جوڑا توکسی نے فلموں اور ڈراموں سے۔کسی نے فیس بک میں پناہ ڈھونڈھی تو کسی نے انٹر نیٹ میں۔زندگی اگر نظر آتی بھی تھی تو صرف فیس بک پر ،بل کہ وہاں بھی خوف زَدہ خبروں اور اطلاعات کاتانتا بندھا ہوا تھا۔اسی خوف کے عالم میں پاکستان میں تُرک ڈراما سیریل " دیریلش ارطغرل" (Diriliş Ertuğrul)کا چرچہ عام ہوا،اُردو ڈبنگ ہوئی اور یہ ڈراما آن ائیر ہو گیا۔یہ شان دار ڈراما سیریل ترکوں کی تہذیب و ثقافت کا امین اور شان دار ماضی کی جھلک دکھاتا ہے۔ڈراما نشر کیا ہوا،بچوں،بوڑھوں اور جوانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ وزیراعظم عمران خان پہلے سے ہی اس ڈرامے کی اُردو ڈبنگ کے نشر کیے جانےکی نوید سنا چکے تھے۔بعد میں اُنھوں نے ایک پریس کانفرنس میں ایک اور ترک ڈراما سیریل "یونس ایمرے:محبت کا سفر" کا بھی ذکرکیا۔عوام نے پہلی بار یونس ایمرے کا نام سنا تھا اور اس کاتعلق بھی ان کے پسندیدہ موضوع یعنی محبت و انسان دوستی سے تھا۔پی ٹی وی کا انتظا رکون کرتا۔یو ٹیوب پر اس سیریل کوتلاش کیااور پھر دیکھنا شروع کیا۔جوں جوں ڈراما آگے بڑھتا گیا،ڈرامے سے ہی نہیں، یونس ایمرے کی شخصیت سے بھی دِل چسپی بڑھتی گئی۔دوسرے لفظوں میں اِس ڈرامے کے ذریعے یونس ایمرے سے روحانی رشتہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔ انٹرنیٹ، یوٹیوب غرض جہاں سے بھی یونس ایمرے سے متعلق موادمیسر آیا،اس کو پڑھنا شروع کیا۔ایسے میں بک کارنر،جہلم کے رُوح رواں، برادرم اَمر شاہد نے خواہش ظاہر کی کہ وہ یونس ایمرے پر ایک کتاب شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یونس ایمرے کی متاثر کن شخصیت سے محبت اور عقیدت تو پہلے ہی قائم ہو چکی تھی،اب اس محبت کے عملی اظہار کا موقع بھی میسر آ گیا۔یونس ایمرے کی شخصیت سے عقیدت مندی،ان کے کلام کے اثر اوراَمر شاہدصاحب کی خواہش کے احترام میں بسم اللہ پڑھی اور کام کا ڈول ڈال دیا۔چند ماہ کا قلیل وقت اوراپنی کم مائیگی کا باربار احساس میرے ارادوں کے درمیان حائل ہوتا رہا، لیکن ہمت نہ ہاری۔مواد کی تلاش میں انٹر نیٹ اور کتاب خانوں پر دستک دی۔دوستوں سے تعاون کی درخواست کی۔امید کی شمع جلنے لگی تو اس کی روشنی میں کام کاآغاز کیا۔چل رے خامہ بسم اللہ۔
There Are Rivers in The Sky (Hardcove Edition) Bhutto Muqadma Aur Saza By Victoria Schofield and at the Department ofPages: 482 Category: English In the ancient city of Nineveh, on the bank of the River Tigris, King Ashurbanipal of Mesopotamia, erudite but ruthless, built a great library that would crumble with the end of his reign. From its ruins, however, emerged a poem, the Epic of Gilgamesh, that would infuse the existence of two rivers and bind together three lives. In 1840 London, Arthur is born beside the stinking, sewage filled River Thames. With an abusive,