Tahira - طاہرہ zara si bat میر حسن کو حاتم دوراں
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 12 - Aug 17
Pay in 4 interest-free payments of $93.75 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 12 - Aug 17
میر حسن کو حاتم دوراں آصف الدولہ کے دربار سے کچھ ملا ہو یا نہ ملا ہو ان کی مثنوی کی مقبولیت آصف الدولہ کی ناقدری کے منہ پر طمانچہ بن گئی۔ محمد حسین آزاد کے الفاظ میں۔ ’’زمانے نے اس کی سحر بیانی پر تمام شعراء اور تذکرہ نویسوں سے محض شہادت لکھوایا۔ اس کی صفائی بیان، لطف محاورہ شوخی مضمون اور طرز ادا کی نزاکت اور جواب و سوال کی نوک جھونک حد توصیف سے باہر ہے۔ زبان چٹخارے بھرتی ہے اور نہیں کہہ سکتی کہ یہ کون سا میوہ ہے۔ جگت گرو مرزا سودا اور شاعروں کے سرتاج میر تقی میر نے بھی کئی مثنویاں لکھیں مگر فصاحت کے کتب خانہ کی الماری پر جگہ نہ پائی۔ میر حسن نے اسے لکھا اور ایسی صاف زبان، فصیح محاورے اور میٹھی گفتگو میں اور اس کیفیت کے ساتھ ادا کیا کہ کہ اصل واقعہ کا نقشہ آنکھوں میں کھنچ گیا۔ اس نے خواص اہل سخن کی تعریف پر قناعت نہ کی بلکہ عوام جو حرف بھی نہیں پہچانتےوظیفوں کی طرح حفظ کرنے لگے۔‘‘ میر حسن نے سحرالبیان، گلزار ارم اور رموز العارفین کے علاوہ کئی دوسری مثنویاں بھی لکھیں۔ ان کی اک مثنوی خوان نعمت آصف الدولہ کے دسترخوان پر چنے جانے والے کھانوں کے بارے میں ہے۔ رموز العارفین اپنے وقت میں خاصی مقبول تھی جس میں عارفانہ اور مصلحانہ مضامین نظم ہوئے ہیں۔ لیکن جو مقبولیت ان کی آخری مثنوی سحرالبیان کو ملی ویسی کسی مثنوی کو نہیں ملی۔ اس میں شک نہیں سحرالبیان میں میر حسن نے محاکات اور جزئیات نگاری کو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے۔ یہی بات ان کے پوتے میر انیس کو ورثہ میں ملی جنہوں نے مرثیہ کے میدان میں اس سے کام لیا۔ میر حسن کے چار بیٹے تھے اور سبھی شاعر تھے جن میں انیس کے والد میر مستحسن خلیق نے بہت اچھے مرثئے لکھے لیکن بیٹے کی شہرت اور مقبولیت نے انھیں پس پشت ڈال دیا۔
1) سوزناتمام
In no other work does Kafka reveal himself as in the Letters to Milena
one-word substitution
renew your faith
Tahira - طاہرہ zara si bat میر حسن کو حاتم دوراںPages: 301 Category: Novels
US$ 23.90
US$ 47.13
US$ 43.33
US$ 42.55