Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD1900.00 USD1929.00

Pay in 4 interest-free payments of $475.00 Learn more

Hamoodur Rahman Commission Report (English Edition) Book on Ahmad Faraz Drawing from confidential British reports

SKU: 87628014516
4.5

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18

Description

Drawing from confidential British reports

شروع میں وہ تیغ الہ آبادی تخلص کرتے رہے۔

سندھ کا جاگیردار خاندان ہے جہاں کسانوں اور ہاریوں کو زرعی غلام سمجھا جاتا ہے اور جہاں جاگیرداری محض تاریخ کی کتابوں تک محدودنہیں۔ سندھی وڈیرہ ایشیا کا انتہائی سفاک اور ظالم جاگیردار ہے۔ اس کی اپنی دنیاہوتی ہے جس میں رہنے والوں کی زندگیاں اس کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اسی دنیا میں پیدا ہوئے۔ تاہم تقسیم سے پہلے ان کا زیادہ تر وقت بمبئی میں گزرا۔ انھوں نے آکسفرڈ اور ہارورڈ میں تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔ وہ اپنی زندگی کے تیس کے عشرے میں تھے کہ پاکستان کے پہلے فوجی آمر نے ان میں موجود ذہین اور چالاک فرد کو پہچان لیا۔ 1956ء میںاس نے انھیں مرکزی کابینہ میں لے لیا۔ ترقی کے زینے پرقدم رکھنے کے بعد انھوںنے کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔1965ء میں وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ تھے۔ 1966ء میں ایوب خان نے انھیں برطرف کردیا جو اَب خود کوترقی دے کرفیلڈ مارشل بن چکا تھا۔ بھٹو نے برطرفی کے بعد اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی تشکیل دی۔ جب پاکستان کے طلبا ایوب آمریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تو مغربی پاکستان میں بھٹو اِن کے لیڈر بن گئے۔ انھیں مختصر سے عرصہ کے لیے قید بھی کیا گیا۔ عوامی مقبولیت نے انھیں کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔عوام سے ان کا تعلق اور ربط وسیع تر ہو گیا۔ انھوں نے عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا۔ انھوں نے دھمکی دی کہ امرا کے محل چھین کر انھیں غریبوں کے لیے ہسپتالوں میںتبدیل کر دیا جائے گا۔ ایک ایسا عوامی جوش و خروش ملک میں پھیل گیا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ جب طالب علموں اور محنت کشوں کی شورش نے بالآخر ایوب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تو انتخاب منعقد ہوئے جس میں بھٹو کی پارٹی نے مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کر لی۔ پنجاب جیسے اہم صوبے میں تمام بڑے بڑے جاگیرداروں کو شکست ہو گئی۔ عوام کی توقعات بہت بلند تھیں۔ لوگ اب اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے منتظر تھے۔ ایوب کابینہ سے برطرفی کے بعد بھٹوجب عوامی رابطہ مہم پر نکلے تو راجہ انور کی ان سے ملاقات ہوئی۔ راجہ انور راولپنڈی کا ایک سرگرم طالب علم رہنما تھا۔ وہ بھٹو کے عوامی انداز سے بہت متاثر ہوا۔ راجہ انوربھی لاکھوں پاکستانیوں کی طرح سمجھتا تھا کہ یہ عالی نسب سیاستدان ہی سماجی انقلاب لائے گا۔ 1968-69ء میں ایک ہیجان نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اسے کوئی بھی مثبت سمت دی جا سکتی تھی لیکن امید کے یہ دن مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے خون میں بہہ گئے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھٹو مغربی پاکستان

He writes regularly for The News

اس کتاب میں غیر معمولی لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ہر نئے باب میں ایک نئی کتاب چُھپی ہے۔ نہرو اور جوش صاحب کی شام کی محفلوں کا احوال جب ہندوستان کا وزیراعظم جوش کے لیے شراب تک کا بندوبست خود کرتا تھا۔ سلطان محمد خوارزم کے حیران کن بلکہ احمقانہ فیصلے نے نہ صرف پوری سلطنت تباہ کرا دی بلکہ سلطان کی ماں سمیت پورے شاہی خاندان کی خوبصورت لڑکیاں منگول اُٹھا کر لے گئے۔ خوارزم شاہی خاندان کے نوجوان لڑ کے قتل کر دیے گئے۔ سلطان کی ماں اور خوبصورت پوتیوں اور نواسیوں کا منگولوں کے ہاتھوں درد ناک انجام آپ کو رُلا دے گا کہ کیسے راتوں رات تقدیر آپ کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ سلطنتوں کے عروج و زوال اور ان بادشاہوں کی کہانیاں جو اپنے عروج کے وقت خود کو خدا سمجھ بیٹھے تھے جبکہ زوال قلعے کی فصیلیں پھلانگ کر اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کتاب کو لکھتے وقت کئی جگہوں پر میرے اپنے آنسو بہہ نکلے۔ رونگٹے کھڑے ہوئے۔ بدن میں سنسنی پھیلی۔ چِین کے بےرحم صحرا سے اٹھنے والے وہ منگول جنھوں نے ثمرقند سے بغداد تک مسلمان سلطنتیں تباہ کر کے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا۔ ہندوستان، سینٹرل ایشیا، قدیم یورپ، بغداد اور انگریزوں کی سلطنت تک کے انسانی المیہ کی دردناک کہانیاں۔ دلی کے تین سو سالہ اقتدار میں 33 مسلمان بادشاہ جن میں سے صرف تین بادشاہ نیک نکلے۔ دکن کا مولوی اور جونا گڑھا کا قاضی وہ دو کردار ہیں جو اپنی ریاستیں چھوڑ کر پاکستان پہنچے تو ان پر کیا گزری۔ اس کتاب کے ان پچاس ابواب میں درجنوں کتابیں چُھپی ہیں جو آپ کو کہیں رلائیں گی تو کہیں ہنسائیں گی۔ وبا کے دنوں میں محبّت کی داستان کئی روز تک آپ کا دل گرماتی رہے گی۔ ایک مظلوم شاعر کی داستانِ عبرت جسے آخری مغل بادشاہ کا کردار ادا کرنا تھا۔ بادشاہت سے زیادہ ابراہیم ذوقؔ اور اسداللہ غالبؔ کی کمپنی کا شوق تھا۔ اس بدنصیب بادشاہ کا نیا قصّہ جسے دفن ہونے کے لیے کُوئے یار میں دو گز زمین بھی نہ ملی۔

Hamoodur Rahman Commission Report (English Edition) Book on Ahmad Faraz Drawing from confidential British reportsPages: 545 Category: English, Dhaka Fall The report of the Hamoodur Rehman Commission of Inquiry into the 1971 War As Declassified by the Government of Pakistan is more than just an investigation into what happened in 1971 in East Pakistan. It is in fact the views of three eminent Pakistani judges, Mr Justice Hamoodur Rehman, Chief Justice of the Supreme Court of Pakistan: Mr Justice Anwarul Haq, Chief Justice of the Lahore High Court; and Mr Justice

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products