Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD225.00 USD249.00

Pay in 4 interest-free payments of $56.25 Learn more

Wo Lahore Kahi Kho Giyeh - وہ لاہور کہیں کھوگیا Nehala award-winning author Morgan Housel shares

SKU: 8790022942
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 14 - Aug 19

Description

award-winning author Morgan Housel shares 19 short stories exploring the strange ways people think about money and teaches you how to make better sense of one of life's most important topics

his commentary on Pakistan is exceptionally insightful

1983ء میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سوانح حیات کے حوالے سے مارٹن لنگز (Martin Lings) المعروف ابوبکر سراج الدین کی شہرہ آفاق کتاب " محمدﷺ " انگریزی میں طبع ہو کر سامنے آئی تو چاروں طرف ایک تہلکہ سا مچ گیا کہ یہ سیرت سے متعلق ایک ایسی مستند اور منفرد کتاب تھی جس میں ایسے قدیم اور مصدقہ ماخذات سے استفادہ کیا گیا تھا جو اس سے پہلے یا تو سامنے آئے ہی نہیں تھے یا ان کی حیثیت جزوی اور ضمنی حوالوں جیسی تھی۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور مصر سمیت نہ صرف بہت سے مسلمان ممالک میں اسے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا بلکہ اس کے تراجم بھی کئی زبانوں میں سامنے آئے، اُردو میں بھی بھارت اور پاکستان میں اس کے متعدد تراجم ہو چکے ہیں جن میں سے وہ ترجمہ ہے جو سیّد کاظم جعفری نے چند برس قبل مکمل کیا تھا۔

اُردو ادب کی آبرو شمس الرحمٰن فاروقی کا کہنا ہے کہ وہ اُردو تنقید کو زبان کی خدمت سمجھ کر لکھتے رہے جب کہ شعر کہنا ایک گہری، ناقابلِ وضاحت اور ذاتی مجبوری رہی۔ اُن کی تخلیقی شخصیت کی کھوج میں نکلے ہوئوں کو بہت بعد میں خبر ہوئی کہ اُن کے تخلیقی وجود کے اندر ایک افسانہ نگار بھی ہمیشہ سے موجود رہا تھا۔ وہ اپنی ادبی حیات کے غالب حصے میں اُس سے آنکھیں چراتے رہے۔ کہیں مجبوری میں کہانی لکھنا پڑجاتی یا کسی افسانے کا ترجمہ کرنا ہوتا تو ایک فرضی مصنف تراش لیتے اور اُس کے نام سے ’’شب خون‘‘ میں چھاپ لیا کرتے، اللّٰہ اللّٰہ خیر صلا۔ شاید اس کا سبب یہ رہا ہوگا کہ جو توقیر اُنھیں تنقید میں ریاضت سے ملی تھی وہ اُس پرکسی ایسی ادبی صنف کا سایہ پڑنے نہ دینا چاہتے ہوں گے جسے وہ اپنی تنقید میں شاعری سے کم تر اور یاک جیسی سست رَو گردان چکے تھے۔ خیر، وقت نے پلٹا کھایا اورفاروقی صاحب کے قلم پر بالکل الگ نوع کے افسانے اور ناول رواں ہو گئے۔ جی، وہ افسانے اور ناول جواپنے کھوئے ہوئے تہذیبی وقار اور خود اعتمادی کو بحال کرنے کے قرینے سجھانے لگے تھے۔ کلاسیکی شعریات کو رواں زندگی کی ہماہمی کے اندر لے آنا فاروقی صاحب کا مسئلہ رہا ہے؛ زندگی بھر کا مسئلہ۔ اُن کے اندر کا شاعر بھی اِس جانب لپکتا رہا اور ناقد بھی مگر فکشن لکھتے ہوئے اِس باب میں جو کامیابی اُنھیں ملی تھی وہ بے نظیر تھی اور موثر بھی۔ فاروقی صاحب کہتے رہے تھے کہ قدیم شعریات کے ذریعے جو تناظر حاصل ہوتا ہے اس سے نئے ادب اور جدیدیت کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی لیکن یہ کیسے ممکن ہو پائے گا، ایسا اُن کے فکشن نے سجھا دیا تھا۔ اس مجموعے میںفاروقی صاحب کے افسانوں ، مختصر ناول، عالمی فکشنی ادب کے تراجم ( مدون/ غیرمدون) سب یکجا کر دیے گئے ہیں۔ شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کے ساتھ ’’مجموعہ شمس الرحمٰن فاروقی‘‘ کا مطالعہ اُردو فکشن کے ایسے روشن باب کا مطالعہ ہے جس کا متن سب سے الگ اور علمی، ادبی اور تہذیبی سطح پر عطا کرنے کے معاملے میں حد درجہ فیاض ہے۔

His other books include: From Hindi to Urdu: A Social and Political History (OUP

Wo Lahore Kahi Kho Giyeh - وہ لاہور کہیں کھوگیا Nehala award-winning author Morgan Housel sharesPages: 208 Category: History Books

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products