Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN325.00 PLN354.00

Pay in 4 interest-free payments of $81.25 Learn more

The Emergence Of Bangladesh girdish mein hain mani یہ بات فراموش کرنی نہیں

SKU: 95576425049
4.1

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 2 - Sep 7

Description

یہ بات فراموش کرنی نہیں چاہیے کہ جس وقت سر سید نے رسالہ اسبابِ بغاوتِ ہند لکھ کر گورنمنٹ میں پیش کیا، وہ ایک ایسا نازک وقت تھا کہ اُس وقت کسی کو آزادانہ رائے ظاہر کرنے کی جرات نہ تھی، چنانچہ کسی قدر اُن کو اپنی جرات اور دلیری کا خمیازہ بھگتنا بھی پڑا۔ بعض جلیل القدر انگریز اُن کے سخت مخالف ہوگئے جس سے کچھ دنوں وہ مارشل لاء کی زد میں رہے۔

پاکستان کی برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کا مسئلہ ہے۔ آپ تہران آنے سے پہلے پاکستان کی وزارت تجارت کے سیکریٹری تھے اس لیے ایران کی وزارت بازرگانی میں آپ کے تعلقات سے کام چل سکتا ہے۔ شنید تو یہی ہے‘‘۔ مختار مسعود یہ سن کر حیران رہ گئے۔ بھنڈارا سے کہنے لگے: ’’آپ نے دو باتوں پر غور کیا ہے؟ پہلی تو یہ کہ تبریز کے بلوے میں سب سے زیادہ زور شراب خانے تباہ کرنے پر تھا۔ جب وہ سارے کے سارے جلا دیے گئے تو ہجوم نے اپنا باقی غصہ جدید طرز کے ہیئر کٹنگ سیلون جلاکر اتارا۔ جہاں حجام کی دکان تک محفوظ نہ ہو وہاں آپ کی شراب کے گودام کیسے سلامت رہیں گے؟ حالات اگر ایسے ہی رہے تو کسی دن تہران کی شمس برئیوری کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ آج کل رمضان کا مہینہ ہے‘‘۔ مختار مسعود فارسی داں ہیں انہوں نے مینو بھنڈارا کو قاآنی کے ایک قصیدے کے مناسب حال اشعار سنانے چاہے۔ مگر مینو اگرچہ پارسی ہونے کے ناطے ایرانی النسل تھا لیکن فارسی سے نابلد تھا، اس لیے مختار مسعود نے ان اشعار کا ترجمہ سنانے پر اکتفا کیا جو شبلی نعمانی نے کیا تھا۔ شاعر اپنے غلام کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ میری تسبیح اور جا نماز اٹھالا، مجلس میں عیش کے جو سامان ہیں وہ اٹھا لے جا۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی مولوی آجائے۔ اس مہینے میں شراب پینی ناجائز ہے۔ بھنڈارا نے جواب دیا ’’میں ان دونوں باتوں پر غور کرچکا ہوں۔ شراب بنانے، بیچنے، برآمد کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے بعد میری کوئی ذمے داری باقی نہیں رہ جاتی۔ درآمد کرنے والا جانے اور اس کا کام۔ رسد اور طلب کا اصول آپ جانتے ہوں گے۔ شراب کی جتنی دکانیں جلائی جائیں گی اور جتنے کارخانے اور گودام تباہ کیے جائیں گے اسی قدر شراب کی تجارت میں منافع بڑھتا جائے گا۔ تبریز میں بلوے کے بعد یہی ہوا۔ تہران اور مشہد میں بھی یہی ہوگا۔ رہی آپ کی دوسری بات تو اس کا جواب یہ ہے کہ شعر گھڑنے اور تجارت کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر رمضان میں کچھ لوگ روزہ کھولنے کے لیے بیئر پسند کرتے ہیں تو کیا انہیں روکنے کے لیے قاآنی اپنی قبر سے اٹھ کر آئے گا؟‘‘

عارف انیس کو پاکستان پر فخر ہے۔ پاکستان کو بھی اپنے اس ذہین بیٹے پر فخر ہونا چاہیے۔

national and international factors that derailed each of the three rules discussed in this poignant book

He opens a store

The Emergence Of Bangladesh girdish mein hain mani یہ بات فراموش کرنی نہیںPages: 80 Category: English, Dhaka Fall 1971 The Emergence of Bangladesh Problems and Opportunities for a Redefined American Policy in South Asia by Wayne East Pakistan into the independent state of Bangladesh. Wilcox put his account into context with a brief review of American policy in South Asia from 1945 through 1969 and the rise of Russian and Chinese influence on the subcontinent in the wake of the Sino Indian border war of 1962. He then weaves

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products