Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK550.00 SEK582.00

Pay in 4 interest-free payments of $137.50 Learn more

Pothohar Khita e Dil Ruba - پوٹھوہار خطہ دل ربا younas emre and other forms of shameless

SKU: 98393861546
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 27 - Sep 1

Description

and other forms of shameless self-promotion

زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان غالباً ستمبر 1970ء کا پہلا ہفتہ تھا کہ جیل میں اسیر طلبہ نے صبح صبح شور مچایا، ’’راجہ بھی آ رہا ہے‘‘ انھوں نے اخبار سے اس کی گرفتاری کی خبر پڑھی تھی۔ شام کو اسے بھی ہمارے ساتھ ’’سی کلاس‘‘ کی تنگ ترین کوٹھری میں دھکیل دیا گیا۔ اب تکلّف کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ یہ شخص خاصا دل گُردے کا مالک ہے۔ غم، دُکھ اور یاسیت کے طوفان میں بھی مسکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ راجہ کے آنے سے صحنِ زنداں کی کلفتیں بہت ہلکی ہلکی نظر آنے لگیں۔ وہ لطیفے، ہنسی مذاق اور فقرہ بازی کا ماہر ہے۔ ہم پانچ آدمی اس مختصر سی جگہ پر سوتے۔ راجہ موم بتّی جلا کر رات رات کراہتی ہوئی زندگی کے مختلف پہلو قلم بند کرتا۔ اس کتاب کی بہت ساری یادداشتیں میرے سامنے لکھی گئیں اور بہت سے ایسے واقعات جہاں زبان ترجمانی نہیں کر پاتی، اس نے خونِ جگر میں اُنگلیاں ڈبو کر لکھے اور شاید یہ اسی کا حصّہ تھا۔ وہ اپنے حُلیے سے چی گویرا بھی لگتا ہے اور ہپی بھی، کبھی کبھی مولوی اور اکثر فلاسفروں کی طرح بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ طالبِ علم بھی ہے، ادیب بھی اورمقرّر بھی۔ دُشمنوں کے لیے وبالِ جان اور دوستوں کے لیے ’’جند جان‘‘ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ انتہائی حسّاس آدمی ہے۔ ’’راجہ بہت اچھا لکھتا ہے‘‘ میں یہ نہیں کہوں گا۔ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ اگر میں نے کچھ کہا تو آپ شاید ’’دوست نوازی‘‘ کا فتویٰ عائد کر دیں۔ بہرحال میں جانتا ہوں کہ آپ کا فیصلہ راجہ کے حق میں ہو گا۔ شبِ زنداں کی عکاسی ہر فرد کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کٹھن راہ میں کئی مقام ایسے بھی ہیں جہاں مروجہ زبان محسوسات کی ترجمانی نہیں کر پاتی۔ تاہم راجہ نے اپنی حسّاس طبیعت کے باعث اس ماحول کے دُکھوں کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ یہ کتاب زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان ہے۔ جیل پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا گیا لیکن مجھے یہ کہنے دیجیے کہ راجہ کی یہ درد بھری تصنیف اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ معراج محمد خان (نامور سوشلسٹ، دانشور اور فلسفی)

and constitutional development concurrently

شمن کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ کوئی اسے سمجھ نہیں پاتا، وہ پیار کی محبت اور دوستی کی بھوکی ہے اور انھی نعمتوں کی تلاش میں بھیانک جنگلوں کی خاک چھانتی ہے۔ اس کا دوسرا عیب ہے ضد ____ یا شاید یہی اس کی خوبی ہے۔ ہتھیار ڈال دینا اس کی طبیعت نہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ میری آپ بیتی ہے۔ مجھے خود یہ آپ بیتی لگتی ہے۔ میں نے اس ناول کو لکھتے وقت بہت کچھ محسوس کیا ہے۔ میں نے شمن کے دل میں اترنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ آنسو بہائے ہیں او رقہقہے لگائے ہیں۔ اس کی کمزوریوں سے جل بھی اٹھی ہوں، اس کی ہمت کی داد بھی دی ہے۔ اس کی نادانیوں پر رحم بھی آیا ہے اور شرارتوں پر پیار بھی آیا ہے۔ اس کے عشق و محبت کے کارناموں پر چٹخارے بھی لیے ہیں اور حسرتوں پر دکھ بھی ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کہوں کہ یہ میری آپ بیتی ہے تو کچھ زیادہ مبالغہ تو نہیں۔

میں نے سب کہانیاں اماں سے سنیں۔ پریوں، جنوں، بادشاہوں، شہزادوں، گھوڑوں، پہاڑوں کی کہانیاں۔ ایک کہانی جو ابھی تک میری یادوں میں ہے کیسے ایک شہزادی نے جو کسی جن کی قید میں تھی بڑی مدت بعد اس نے ایک آدم زاد کو دیکھا تو پہلے ہنسی اور پھر رو پڑی۔ آدم زاد نے پوچھا، ’’پہلے ہنسی اور پھر روئی ہو۔ کیا وجہ ہے؟‘‘

Pothohar Khita e Dil Ruba - پوٹھوہار خطہ دل ربا younas emre and other forms of shamelessPages: 335 Category: History

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products