Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN200.00 PLN235.00

Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more

Roohaniat Ki Nafsiyat - روحانیات کی نفسیات sch bolna mana hay شاہد حمید اُردو کے مایہ

SKU: 99762093993
4.4

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 16 - Aug 21

Description

شاہد حمید اُردو کے مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم ہیں۔ وہ 1928ء میں جالندھر کے ایک گائوں پَرجیاں کلاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول ننگل انبیا میں حاصل کی۔ 1947ء میں فسادات کے دوران میں پاکستان ہجرت کی۔ لاہور آ کر پہلے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں خواجہ منظور حسین اور ڈاکٹر محمد صادق قابلِ ذکر ہیں۔ مشہور نقاد مظفر علی سید فرسٹ ایئر سے سکستھ ایئر تک شاہد حمید کے کلاس فیلو رہے۔ تعلیم کے دوران بطورِ صحافی ’’روزنامہ آفاق‘‘ میں کام کیا۔ پھر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ ایمرسن کالج ملتان، گورنمنٹ کالج ساہیوال اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ 1988ء میں ریٹائر ہوئے۔ ادب سے دلچسپی بہت پرانی ہے، لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ تیسرے درجے کی طبع زاد تحریروں سے عالمی کلاسک کا ترجمہ زبان و ادب کی بدرجہا بہتر خدمت ہے۔ یہ سوچ کر زمانۂ طالب علمی میں ہی ڈیل کارنیگی کی ہر دل عزیز کتاب ’’پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا سیکھیے‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا اور پھر لیوطالسطائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا اور کئی سال کی محنت شاقہ کے بعد اس کام کو مکمل کیا۔ اس ترجمے پر انھیں بہت داد ملی۔ انھوں نے ایڈورڈ سعید کی نہایت اہم تصنیف ’’مسئلہ فلسطین‘‘ کا ترجمہ بھی کیا۔ ایڈورڈ سعید کی پیچیدہ نثر سے انصاف کرنا مشکل تھا لیکن یہ مرحلہ بھی شاہد حمید نے کامیابی سے طے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے جین آسٹن کے ناول ’’تکبر اور تعصب‘‘، ہیمنگوے کی ’’بوڑھا اور سمندر‘‘ اور بین الاقوامی بیسٹ سیلر ’’سوفی کی دُنیا‘‘ کا ترجمہ کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ دستوئیفسکی کے ناول ’’کرامازوف برادران‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کو دنیا بھر میں دستوئیفسکی کی سب سے باکمال تصنیف سمجھا گیا ہے۔ اس کی اُردو میں دستیابی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ان ضخیم ناولوں کے تراجم پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے معروف نقاد شمیم حنفی نے کہا تھا، ’’یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیرمعمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔‘‘ متاز فکشن نگار نیر مسعود نے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط میں شاہد حمید کو حیرت خیز آدمی قرار دیا۔ شاہد حمید نے اپنی خودنوشت ’’گئے دنوں کی مسافت‘‘ کے نام سے تحریر کی تھی اور دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے، جو زیرِطبع ہے۔ ان کا انتقال 29جنوری 2018ء کو ہوا اور ڈیفنس لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

Islamic Self Help

اُردو صحافت اور ادب کی تاریخ میں شکیل عادل زادہ کا نقش دائمی ہے۔ آسانی سے زمانہ جسے مٹا نہ سکے گا۔ سہولت سے گردشِ لیل و نہار جسے بھلا نہ سکے گی۔ شکیل عادل زادہ نے داستان آرائی کے فن سے محبت کی، اُردو زبان سے اور حُسنِ بیان سے۔ ظاہر اور باطن میں ایک مہذّب آدمی ہی مستقل یہ قرینہ اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی وارفتگی اور والہانہ پن کے ساتھ کہ ذاتی زندگی کی ہر رونق اور روئیدگی ان کی نذر کر دی۔ عشّاق کے بغیر اجتماعی حیات میں جمال کی کوئی جہت پروان نہیں چڑھتی۔ کوئی تہذیب اور کوئی زبان بالیدگی نہیں پا سکتی۔ اُردو زبان کی تاریخ بھی اہلِ ایثار کی ریاضت سے ثمر بار ہے، اس لیے کہ یہ مسلم برِّصغیر کی بڑی ہی اہم متاع ہے۔ اَن گنت پھولوں کو پرونے والا دھاگا۔ اہلِ دل کے اس قافلے میں شکیل عادل زادہ کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ مجھ سے عام قاری نہیں، نقّاد اور ہم عصر نہیں، یہ فیصلے تاریخ صادر کرتی ہے۔

Presenting a holistic view of the Islamic system

as well as a model for exploring other violent cityscapes around the world

Roohaniat Ki Nafsiyat - روحانیات کی نفسیات sch bolna mana hay شاہد حمید اُردو کے مایہPages: 96 Category: Urdu Adab

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products