Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
EUR200.00 EUR236.00

Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more

Chhay Afsanay - چھ افسانے Hath Hamaray Qalam Huye By Dr. Saleem Akhtar پھر جب بعد ازاں کرشن

SKU: 10904417334
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 25 - Aug 30

Description

پھر جب بعد ازاں کرشن چندر نے اپنی ایک جامع سوانح حیات لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور سلمیٰ صدیقی نے اس کے بارے میں انھیں یاد دہانی کرائی تو انھوں نے جواب دیا: ’’یوں اگر سوچو تو ’مٹی کے صنم‘ اور ’میری یادوں کے چنار‘ بھی ایک طرح سے آپ بیتی ہی ہیں لیکن ان میں کہانی کا رنگ زیادہ ہے۔‘‘

جب علی اکبر ناطق نے فون پر مجھ سے کہا، ’’اس کو جلدی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘‘ تب میں خُوب ہنسی تھی۔ لیکن ہوا تو یہی، ایک دفعہ کتاب شروع کی تو اس ابتدائی مشکل کے ختم ہونے کے بعد میں نے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو آخری صفحے تک پڑھتی ہی چلی گئی۔ یہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھا قِصّہ تھا جس کی سچائی نے ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے مجھ کو اُداس اور سنجیدہ چھوڑا۔ علی اکبر کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔

اُردو ناول میں پنجاب اپنی تاریخ و تہذیب کے ساتھ مختلف سماجی طبقوں، علاقائی روایات اور زرعی بُو باس و متنوع پہلوؤں کے ساتھ، تفصیل میں دریافت ہو چکا ہے لیکن کسی ناول نگار نے بھولی بسری قومیتوں، نظر انداز کیے گئے قبیلوں اور زندگی کی لکیر کے نیچے دبے ہوئے انسانوں، نسلوں، ذاتوں اور اُن کی بولیوں کے ساتھ اُن کے رسوم و رواج کو جڑوں کے ساتھ کھوجنے کی وہ کوشش نہیں کی جو ناول نگار طاہرہ اقبال نے کی ہے۔ مشترکہ ہندوستان کے پنجاب کا ماضی اور تاریخ اپنی تہ دار پرتوں اور انسانی تجربوں کے لامحدود زاویوں کے ساتھ صرف طاہرہ اقبال کے ناولوں ہی میں ظاہر ہو سکا ہے۔ ’’نیلی بار‘‘ اور ’’گراں‘‘ کے بعد اب وہ ہڑپا تہذیب میں شامل انسانی زندگی کے تحرک کو زبان، سماج، روایات اور مزاج کے ساتھ دریافت کرنے کا تجربہ کر رہی ہیں۔ ’’ہڑپا‘‘ میں محض ایک علاقے کی دنیا کے کردار اپنی جڑوں کے ساتھ دریافت نہیں ہوئے۔ یوں سمجھیں کہ ’’ہڑپا‘‘ پنجاب کا بحرِ بیکراں ہے جہاں تاریخی جدلیات انسانی رشتوں کے خمیر میں جس طرح جاگزیں ہے اُس کی خبر طاہرہ اقبال لے کر آئی ہیں۔ طاہرہ اقبال واحد ناول نگار ہے جو تحقیقی مطالعے کے زعم میں ناول نہیں لکھتیں۔ بہت سے ناول نگار گلبرگ میں بیٹھ کر بھولی بسری اور متروک تہذیبوں پر کی گئی تحقیق کے زور پر ناول لکھ کر نامور ہو جاتے ہیں، جبکہ طاہرہ اقبال کے آبا و اجداد اور اُس پر وہ تہذیب گزری ہے، اُس نے اُس میں سانس لے رکھا ہے۔ اُس میں زندہ ہے اور یہی اُس کی تخلیقی سچائی ہے۔ ’’ہڑپا‘‘ کی دنیا محدود نہیں ہے، وہ ہزاروں سال کی برصغیر کی تاریخی جدلیات میں ایسے شامل ہو جاتی ہے جیسے زیرِ زمین دریا آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ طاہرہ اقبال نے پنجاب کی رہتل اور اُس میں آباد انسانوں میں عورت کو جس رنگ روپ میں دیکھا ہے، ایسے دہلی، لکھنؤ اور حیدرآباد کی عورت کو کوئی ناول نگار نہیں دیکھ سکا۔ اگرچہ قرۃ العین حیدر، واجدہ تبسّم اور عصمت چغتائی جزوی طور پر اپنے اپنے علاقوں سے انصاف کر سکی ہیں مگر طاہرہ اقبال کا دائرہ بہت پھیلا ہوا ہے۔ اصغر ندیم سید

Pages: 175

ہم اُس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا

Chhay Afsanay - چھ افسانے Hath Hamaray Qalam Huye By Dr. Saleem Akhtar پھر جب بعد ازاں کرشنPages: 120 Category: Short stories, Afsany

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products