Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
EUR250.00 EUR296.00

Pay in 4 interest-free payments of $62.50 Learn more

Aalmi Bankaron Ki Dehshat Gardi : Sarmay Kay Aaqa - عالمی بینکاروں کی دہشت گردی : سرمائے کے آقا stories of maqbool jahangir شاہد حمید اُردو کے مایہ

SKU: 69814263575
4.4

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 27 - Sep 1

Description

شاہد حمید اُردو کے مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم ہیں۔ وہ 1928ء میں جالندھر کے ایک گائوں پَرجیاں کلاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول ننگل انبیا میں حاصل کی۔ 1947ء میں فسادات کے دوران میں پاکستان ہجرت کی۔ لاہور آ کر پہلے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں خواجہ منظور حسین اور ڈاکٹر محمد صادق قابلِ ذکر ہیں۔ مشہور نقاد مظفر علی سید فرسٹ ایئر سے سکستھ ایئر تک شاہد حمید کے کلاس فیلو رہے۔ تعلیم کے دوران بطورِ صحافی ’’روزنامہ آفاق‘‘ میں کام کیا۔ پھر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ ایمرسن کالج ملتان، گورنمنٹ کالج ساہیوال اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ 1988ء میں ریٹائر ہوئے۔ ادب سے دلچسپی بہت پرانی ہے، لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ تیسرے درجے کی طبع زاد تحریروں سے عالمی کلاسک کا ترجمہ زبان و ادب کی بدرجہا بہتر خدمت ہے۔ یہ سوچ کر زمانۂ طالب علمی میں ہی ڈیل کارنیگی کی ہر دل عزیز کتاب ’’پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا سیکھیے‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا اور پھر لیوطالسطائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا اور کئی سال کی محنت شاقہ کے بعد اس کام کو مکمل کیا۔ اس ترجمے پر انھیں بہت داد ملی۔ انھوں نے ایڈورڈ سعید کی نہایت اہم تصنیف ’’مسئلہ فلسطین‘‘ کا ترجمہ بھی کیا۔ ایڈورڈ سعید کی پیچیدہ نثر سے انصاف کرنا مشکل تھا لیکن یہ مرحلہ بھی شاہد حمید نے کامیابی سے طے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے جین آسٹن کے ناول ’’تکبر اور تعصب‘‘، ہیمنگوے کی ’’بوڑھا اور سمندر‘‘ اور بین الاقوامی بیسٹ سیلر ’’سوفی کی دُنیا‘‘ کا ترجمہ کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ دستوئیفسکی کے ناول ’’کرامازوف برادران‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کو دنیا بھر میں دستوئیفسکی کی سب سے باکمال تصنیف سمجھا گیا ہے۔ اس کی اُردو میں دستیابی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ان ضخیم ناولوں کے تراجم پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے معروف نقاد شمیم حنفی نے کہا تھا، ’’یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیرمعمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔‘‘ متاز فکشن نگار نیر مسعود نے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط میں شاہد حمید کو حیرت خیز آدمی قرار دیا۔ شاہد حمید نے اپنی خودنوشت ’’گئے دنوں کی مسافت‘‘ کے نام سے تحریر کی تھی اور دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے، جو زیرِطبع ہے۔ ان کا انتقال 29جنوری 2018ء کو ہوا اور ڈیفنس لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

کچھ لوگ بڑے خاص ہوتے ہیں۔ اوپر والے کی نگاہِ انتخاب کا مرکز، اور حسن منظر انھی میں سے ایک ہیں، جن کے وجود میں اس نے رنگا رنگ صلاحیتوں کے ست ڈال دیے ہیں۔ مسیحائی اگر رزق روٹی کا وسیلہ تو دردِ دل کا تحفہ بھی ایک عنایت۔ ذہنی استعداد کی تیزی اوج کمال والی، تو آنکھ میں مشاہدے کی وہ گہرائی کہ کرداروں کے بھیتر تک کا ایکسرے لے ڈالے۔ ہاتھوں میں قلم پکڑنے کی وہ طاقت کہ جس پر اُٹھے، اُسے اندر باہر سے ایسا پینٹ کردے کہ تصویر بولنے لگے۔ ان کی کہانیوں، افسانوں میں موضوعات کے تنوع، ناولوں میں جدّت، دُنیا کے گھمائو پھرائو میں ذاتی تجربات و مشاہدات کے خزینے جن کی قلم بندی کے حوالوں سے وہ اپنے موضوعات، اپنے اسلوب، اپنی بُنت کاری اور اپنے قاری کو بھرپور گرفت میں لینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ میں حسن منظر کی مسیحائی سے فیض یاب نہیں ہوئی۔ ہاں قصّے کہانیاں بہت سنے ہیں۔ مگر شخصی اور قلمی ناطے سے وہ میرا ہیرو ہے۔ میرے محبوب لکھاری کا یہ تخلیقی ورثہ اُردو ادب کا بہت قیمتی سرمایہ ہے۔ بک کارنر جہلم مبارک باد کا مستحق ہے کہ انھوں نے حسن منظر کو چھاپنے کا فیصلہ کیا۔

کتاب کا ترجمہ سلیس کیا گیا ہے اور ہر مشکل عربی لفظ کے مقابل اردو لفظ لانے کی کوشش کی گئی ہے الاّ یہ کہ وہ شیخ اکبر کی اصطلاح ہو۔ لفظ بلفظ ترجمے سے اجتناب کیا گیا ہے، لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر کماحقہ ترجمہ کرنا ممکن نہیں۔ عربی متن پیش کرنے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ کلام سے دلیل پکڑنے کی غرض سے اصل عربی سے رجوع کیا جائے اور ترجمے کو صرف فہم کا ایک ذریعہ سمجھا جائے، بلکہ جو حضرات عربی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں انہیں عربی متن ہی پڑھنا چاہیے۔

اس آفر میں علی اکبر ناطق کی 5 کب شامل ہیں

مترجم:

Aalmi Bankaron Ki Dehshat Gardi : Sarmay Kay Aaqa - عالمی بینکاروں کی دہشت گردی : سرمائے کے آقا stories of maqbool jahangir شاہد حمید اُردو کے مایہPages: 125 Category: History Book, International Politics 48

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products