Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD950.00 USD989.00

Pay in 4 interest-free payments of $237.50 Learn more

The Idea Of Pakistan ieay asman nichy utar Pages: 410

SKU: 44813256339
4.0

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 12 - Aug 17

Description

Pages: 410

اُردو ادب کی آبرو شمس الرحمٰن فاروقی کا کہنا ہے کہ وہ اُردو تنقید کو زبان کی خدمت سمجھ کر لکھتے رہے جب کہ شعر کہنا ایک گہری، ناقابلِ وضاحت اور ذاتی مجبوری رہی۔ اُن کی تخلیقی شخصیت کی کھوج میں نکلے ہوئوں کو بہت بعد میں خبر ہوئی کہ اُن کے تخلیقی وجود کے اندر ایک افسانہ نگار بھی ہمیشہ سے موجود رہا تھا۔ وہ اپنی ادبی حیات کے غالب حصے میں اُس سے آنکھیں چراتے رہے۔ کہیں مجبوری میں کہانی لکھنا پڑجاتی یا کسی افسانے کا ترجمہ کرنا ہوتا تو ایک فرضی مصنف تراش لیتے اور اُس کے نام سے ’’شب خون‘‘ میں چھاپ لیا کرتے، اللّٰہ اللّٰہ خیر صلا۔ شاید اس کا سبب یہ رہا ہوگا کہ جو توقیر اُنھیں تنقید میں ریاضت سے ملی تھی وہ اُس پرکسی ایسی ادبی صنف کا سایہ پڑنے نہ دینا چاہتے ہوں گے جسے وہ اپنی تنقید میں شاعری سے کم تر اور یاک جیسی سست رَو گردان چکے تھے۔ خیر، وقت نے پلٹا کھایا اورفاروقی صاحب کے قلم پر بالکل الگ نوع کے افسانے اور ناول رواں ہو گئے۔ جی، وہ افسانے اور ناول جواپنے کھوئے ہوئے تہذیبی وقار اور خود اعتمادی کو بحال کرنے کے قرینے سجھانے لگے تھے۔ کلاسیکی شعریات کو رواں زندگی کی ہماہمی کے اندر لے آنا فاروقی صاحب کا مسئلہ رہا ہے؛ زندگی بھر کا مسئلہ۔ اُن کے اندر کا شاعر بھی اِس جانب لپکتا رہا اور ناقد بھی مگر فکشن لکھتے ہوئے اِس باب میں جو کامیابی اُنھیں ملی تھی وہ بے نظیر تھی اور موثر بھی۔ فاروقی صاحب کہتے رہے تھے کہ قدیم شعریات کے ذریعے جو تناظر حاصل ہوتا ہے اس سے نئے ادب اور جدیدیت کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی لیکن یہ کیسے ممکن ہو پائے گا، ایسا اُن کے فکشن نے سجھا دیا تھا۔ اس مجموعے میںفاروقی صاحب کے افسانوں ، مختصر ناول، عالمی فکشنی ادب کے تراجم ( مدون/ غیرمدون) سب یکجا کر دیے گئے ہیں۔ شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کے ساتھ ’’مجموعہ شمس الرحمٰن فاروقی‘‘ کا مطالعہ اُردو فکشن کے ایسے روشن باب کا مطالعہ ہے جس کا متن سب سے الگ اور علمی، ادبی اور تہذیبی سطح پر عطا کرنے کے معاملے میں حد درجہ فیاض ہے۔

Forman Christian College and the Government College

Books: Set of 10 Books

’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے مصنف شمس الرحمٰن فاروقی اُردو دنیا کی ایسی عہدساز شخصیت ہیں جن کے کام، علمی توفیقات اور تخلیقی امتیازات کا ہر سطح پراعتراف کیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے انہیں ’’پدم شری ‘‘ جیسا بڑا ایوارڈ دیا تو حکومت پاکستان کی طرف سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ خلاق شاعر، مجتہد نقاد، دانشور اور شب خون جیسے رجحان ساز رسالے کے مدیر اور سب سے بڑھ کر ایسے ناول نگار جنہوں نے اپنے فن پارے کو تہذیبی مرقع بنا کر اس صنف پر امکانات کے نئے آفاق کھول دیے۔ شمس الرحمٰن فاروقی ۱۵جنوری ۱۹۳۶ء کو پرتاب گڑھ، یوپی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علم وفضل کی قدیم روایت اپنے بزرگوں سے وراثت میں پائی۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ۱۹۵۳ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ۔ ادبی رسالہ’’شب خون‘‘ نکالا اور کئی نسلوں کے ادیبوں کی تربیت کی۔ شمس الرحمٰن فاروقی ’’گنج سوختہ‘‘، ’’سبز اندرسبز‘‘، ’’چارسمت کا دریا‘‘، ’’آسماں محراب‘‘، ’’سوار اوردوسرے افسانے‘‘، ’’افسانے کی حمایت میں‘‘، ’’لفظ ومعنی‘‘، ’شعر شور انگیز‘‘، ’’عروض، آہنگ اور بیان‘‘، ’’اُردو غزل کے اہم موڑ‘‘، ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘، ’’قبض زماں‘‘ اور زیر نظر شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ کے مصنف ہیں۔

The Idea Of Pakistan ieay asman nichy utar Pages: 410Pages: 382 Category: English

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products

Kabuto 8' 3
Kabuto 8' 3

US$ 29.63

Min. order: 1 piece

4.9 (12 reviews)

Sold : Login>>